جان ایف کینیڈی
ہاؤسٹن، ٹیکساس
12 ستمبر 1960

ریویرینڈ میزا، ریویرینڈ ریک، میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے خیالات پیش کرنے کی دعوت دی۔

حالانکہ آج کا موضوع ایک نام نہاد مذہبی مسٔلہ ہے، پھر بھی میں شروع کرنے سے پہلے اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ 1960 کے چناؤ میں ہمارے سامنے اس سے کہیں زیادہ شدید مسائل ہیں، اشتراکی اثر کا پھیلاؤ جو اب ایک سوزش کی شکل میں فلوریڈا کے ساحل سے 90 میل تک آگیا ہے، ہمارے صدر اور نائب صدر سے ان لوگوں کا ذلّت آمیز برتاؤ جو اب ہماری طاقت کی کوئی عزّت نہیں کرتے، بھوکے بچّے جو میں نے مغربی ورجینیا میں دیکھے ہیں، بوڑھے لوگ جو ڈاکٹر کا بل نہیں ادا کر سکتے، وہ خاندان جو اپنے کھیت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، ایک ایسا امریکہ جہاں بہت سے غریب محلّے ہیں، جہاں بہت کم اسکول ہیں، اور جسے چاند اور بیرونی خلا میں جانے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔

یہ وہ اصل مسائل ہیں جو ہمارے چناؤ کی منظّم کوشش کا فیصلہ کرینگے، یہ مذہبی مسائل نہیں ہیں۔۔۔ کیونکہ جنگ اور بھوک اور جہالت اور اداسی مذہبی حدود کو نہیں پہچانتی۔

لیکن کیونکہ میں ایک کیتھلک ہوں اور ابھی تک کوئی کیتھلک صدر کے طور پر نہیں چنا گیا ہے، اس لیئے اس چناؤ کی کمپین میں اصل مسائل دھندلا گئے ہیں، شائد جان بوجھھ کر، ان علاقوں سے جو اس علاقے سے ذمّہ داری میں کمتر ہیں۔ تو میں یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میں کس چرچ کو مانتا ہوں، کیونکہ یہ صرف میرے لیئے ہی اہم ہونا چاہیئے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کس قسم کے امریکہ کو مانتا ہوں۔

میں ایک ایسے امریکہ کو مانتا ہوں جہاں چرچ اور ملک کا الگ ہونا قطعی ہے، جہاں کوئی کیتھلک کلیسائی صدر سے (اگر وہ کیتھلک ہو) یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے کیسا عمل کرنا چاہیئے، اور کوئی پروٹیسٹنٹ اپنے چرچ کے لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کو ووٹ دے۔ جہاں کسی چرچ یا چرچ کے اسکول کی امداد عوامی فنڈ یا سیاسی ترجیح سے نہیں ہو سکتی۔اور کسی کو کسی پبلک آفس سے اس لیئے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا مذہب، اس صدر سے مختلف ہے، جو اس کی تقرّری کرنے والا ہے، یا ان لوگوں سے جو اس کو چننے والے ہیں۔

میں اس امریکہ کو مانتا ہوں جو سرکاری طور سے نہ کیتھلک ہو، نہ پروٹیسٹنٹ اور نہ ہی یہودی، جہاں کوئی بھی افسر، عوامی پالیسی کے معاملے میں، پوپ سے، یا کاؤنسل آف چرچز سے اور نہ ہی کسی مذہبی ادارے سے، نہ تو ہدایات کی درخواست کرے اور نہ ہی انھیں ہدایات دے۔ جہاں کوئی بھی مذہبی ادارہ، بالواسطہ یا بلا واسطہ، عام آبادی پر یا افسروں کے عوامی اعمال پر اپنی مرضی نہ لاد سکے، جہاں مذہبی آزادی اتنی نا قابل تقسیم ہو کہ ایک چرچ کے خلاف کوئی عمل سارے چرچوں کے خلاف ایک عمل سمجھا جائے۔

کیونکہ اس سال اگر ایک کیتھلک پر شک کی انگلی اٹھائی گئی تو اگلے سال کسی یہودی یا کویکر، یا یونیٹیرین یا کسی باپٹسٹ پر بھی اٹھائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ورجینیا میں باپٹسٹ تبلیغیوں کو تنگ کرنے کی وجہ سے ہی جیفرسن کا، مذہبی آزادی کا قانون بنایا گیا تھا۔ آج میں اس کا شکار ہوں تو کل آپ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ یہاں تک کہ ہمارے پر امن معاشرے کا لباس، قومی خطرے کے وقت تار تار ہو جائگا۔

آخر میں میں ایک ایسے امریکہ کو مانتا ہوں، جہاں ایک دن مذہبی عدم تحمّل ختم ہوکر رہے گا۔ جہاں سارے آدمیوں اور سارے چرچز سے ایک جیسا برتاؤ کیا جائےگا۔ جہاں ہر آدمی کے پاس کسی بھی چرچ میں جانے یا نہ جانے کا حق ہو۔ جہاں کوئی کیتھلک ووٹ یا غیر کیتھلک ووٹ نہ ہو، کسی قسم کی بلاک ووٹنگ نہ ہو، اور جہاں کیتھلکس اور پروٹیسٹنٹس اور یہودی، دنیوی یا کلیسائی سطح پر، حقارت اور تقسیم کے ایسے رویّوں سے پرہیز کریں جس نے ان کے کام کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے بجائے امریکی بھائی چارہ کے اصول کو بڑھاوا دیں۔

اس قسم کے امریکہ کو مانتا ہوں میں۔ اور یہ نمائندگی کرتی ہے اس قسم کی صدارت کی جسے میں مانتا ہوں۔ یہ ایک ایسا عظیم عہدہ ہے، جسے کسی ایک مذہبی گروہ کا آلہٰ بنا کر چھوٹا نہیں بنانا چاہئیے اور نا ہی کسی ایک مذہبی گروہ کو اسے پانے سے، عامرانہ طریقے سے روک کر اسے داغدار کرنا چاہیئے۔ میں ایک ایسے صدر کو مانتا ہوں جس کے مذہبی نظریات اس کا اپنا ذاتی معاملہ ہو، جسے نہ تو وہ قوم پر لاد سکے اور نہ ہی قوم، اس عہدے کو پانے کی شرط کے طور پر، اس پر لاد سکے۔

میں کسی ایسے صدر کو پسند کی نظر سے نہیں دیکھونگا جو مذہبی آزادی کی فرسٹ امینڈمینٹ کی گارنٹی کو تباہ کر دے۔ ہمارا درستگی اور انصاف قائم رکھنے والا نظام بھی اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ اور میں ان لوگوں کوبھی پسند کی نظروں سے نہیں دیکھونگا جو آئین کے آرٹکل نبمر چار کو، بلا واسطہ ہی سہی، مذہبی جانچ کے لیئے تباہ کرتے ہیں۔ اگر وہ اس سے اتّفاق نہیں رکھتے تو ان کو سب کے سامنے اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ میں ایک ایسا مخصوص عامل چاہتا ہوں جو جسکے عوامی اعمال ہر گروہ کو جواب دہ ہوں اور کسی گروہ کے احسان مند نہ ہوں، جو کسی بھی ایسی تقریب، یا سروس یا ڈنر پر جا سکے جہاں جانے کو اس کا عہدہ ضرورت سمجھتا ہے۔ اور جسکا صداری حلف، کسی بھی مذہبی حلف، رسم یا احسانمندی سے محدود یا مشروط نہ ہو۔

میں ایک ایسا مخصوص عامل چاہتا ہوں جو جسکے عوامی اعمال ہر گروہ کو جواب دہ ہوں اور کسی گروہ کے احسان مند نہ ہوں، جو کسی بھی ایسی تقریب، یا سروس یا ڈنر پر جا سکے جہاں جانے کو اس کا عہدہ ضرورت سمجھتا ہے۔ اور جسکا صداری حلف، کسی بھی مذہبی حلف، رسم یا احسانمندی سے محدود یا مشروط نہ ہو۔

میں اس قسم کے امریکہ پر یقین رکھتا ہوں اور اسی قسم کے امریکہ کے لیئے میں نے جنوبی پیسیفک میں جنگ لڑی تھی اور میرے بھائی نے یوروپ میں جان دی تھی۔ تب کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمارے اندر "تقسیم شدہ " وفاداری ہے اور ہم "آزادی میں یقین" نہیں رکھتے۔ یا ہم کسی ایسے غدّار گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اس آزادی کے لیئے ایک خطرہ ہے "جس کے لیئے ہمارے اجداد نے جان دی

اور یہ حقیقت ہے کہ یہ اسی قسم کا امریکہ ہے جس کے لیئے ہمارے اجداد نے جان دی تھی، جب وہ بھاگ کر یہاں آئے تھے، اس مذہبی جانچ کے حلف سے بچنے کے لیئے جو کم درجہ کے چرچز کو ماننے والوں کو سرکاری نوکریوں سے محروم کرتا تھا، جب وہ آئین، حقوق کے قوانین اور ورجینیا کے مذہبی آزادی کے قانون کے لیئے لڑے تھے، اور جب وہ اس عبادت گاہ پر لڑے تھے جہاں میں آج گیا تھا، یعنی الامو۔ جہاں بووی اور کروکیٹ کے شانہ بہ شانہ میکافرٹی، بیلی اور کیری نے بھی جان دی تھی، لیکن کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کیتھلک تھے یا نہیں، کیونکہ الامو میں مذہبی جانچ نہیں تھی۔

آج رات میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ روایت کو برتتے ہوئے، مجھے جانچیئے، کانگریس میں میری 14 سالہ خدمات کی بنا پر، ویٹیکین میں سفیر بھیجنے کے خلاف ، جانبدار سکولوں کو غیر آئینی مدد دینے کے خلاف، عوامی اسکولوں (جن میں میں بھی پڑھا ہوں) کو بائیکاٹ کرنے کے خلاف میرے موقف کی بنا پر جانچیئے، نہ کہ ان کتابچوں اور نشریات کی بنا پر جو ہم سب نے دیکھے ہیں، جن میں کیتھلک رہنماؤں کے بیانات کے سیاق وسباق سے باہر چنے ہوئے اقتباسات چھپے ہیں اور جن میں1948کے بشپس کے وہ بیانات، عام طور سے دوسرے ممالک میں اور اکثر دوسری صدیوں میں، جان بوجھھ کر چھوڑ دیئے گئے ہیں جو چرچ اور ملک کے الگ ہونے پر زور دیتے ہیں اور جو سارے امریکی کیتھلکس کے خیالات کی آئینہ داری کرتے ہیں۔

میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ دوسرے اقتباسات میرے عوامی اعمال پر بندش ڈال سکتے ہیں، آپ بھی ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن دوسرے ممالک سے بڑے ادب کے ساتھھ مجھے کہنے دیں کہ میں کسی بھی مذہبی گروہ کی معرفت حکومت کو استعمال کرنے کے سخت خلاف ہوں، چاہے وہ کیتھلک ہوں یا پروٹیسٹنٹ، کسی بھی دوسرے مذہب پر چلنے سے روکنے، مجبور کرنے یا اس پر ظلم کے خلاف ہوں اور میں امّید کرتا ہوں کہ آپ اور میں کسی بھی ایسے ملک کی پرزور مخالفت کرینگے جو کیتھلکس کو یا پروٹیسٹنٹس کو اپنی صدارت سے محروم رکھتے ہیں۔ اور جو مجھھ سے اتّفاق نہیں رکھتے، میں ان کی بداعمالیاں گنوانے کے بجائے، آئرلینڈ اور فرانس میں کیتھلک چرچ کے اچّھے رکارڈ کے بارے میں بتاؤں گا۔ اور ڈی گال اور ایڈیناور جیسے معتبر سیاستدانوں کی آزاد خیالی کی مثال دونگا۔

لیکن ایک بار پھر مجھے اس بات پر زور دینا ہے کہ یہ میرے ذاتی نظریات ہیں۔ کیونکہ عام اخباروں کی خبروں کے برعکس، میں صدارت کے لیئے ایک کیتھلک امّیدوار نہیں ہوں، میں صدارت کے لیئے ڈیموکریٹک پارٹی کا امّیدوار ہوں جو اتّفاق سے کیتھلک ہے۔ عوامی معاملات میں میں اپنے چرچ کی طرف سے نہیں بولتا، اور نہ ہی چرچ میرے لیئے بولتا ہے۔

صدر کے طور پر میرے سامنے جو بھی مسلہ آئےگا، جیسے کہ برتھھ کنٹرول، طلاق، سینسرشپ، جوا، یا کچھھ اور، میں اسے انھیں خیالات کے مطابق اپنا فیصلہ کرونگا، اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرونگا جو بھی وہ مجھھ سے قومی مفاد کے لیئے کہےگا اور بغیر کسی مذہبی دباؤ یا حکم کے ایسا کرونگا۔ اور کوئی بھی طاقت، دھمکی یا سزا مجھے میرا فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔

لیکن اگر کبھی ایسا وقت آتا ہے۔۔۔۔۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ایسی کوئی بھی تکرار دور دور تک ممکن ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ جب میرا عہدہ مجھھ سے میرے ضمیر یا قومی مفاد کے خلاف کچھھ کرنے کو کہے تو میں اس عہدے سے استفاء دے دونگا اور میں امّید کرتا ہوں کہ کوئی بھی باضمیر عوامی خدمتگار ایسا ہی کرےگا۔

ان خیالات کے لیئے میں اپنے کسی بھی کیتھلک یا پروٹیسٹنٹ تبصرہ نگار سے معافی مانگنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اور نہ ہی میں الیکشن جیتنے کے لیئے اپنے حلف اور اپنے چرچ کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

اگر میں کسی مسٔلہ کو سلجھانے میں ناکام رہتا ہوں تو اپنی سینیٹ کی کرسی پر واپس چلا جاؤنگا، اس بات پر مطمئین ہوکر کہ میں نے اپنی پوری کوشش کی اور مجھے ٹھیک طرح سے جانچا گیا۔ لیکن اگراس الیکشن کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ جس دن 40 ملیین امریکنس کو بیپٹائیز کیا گیا اسی دن انھوں نے صدر بننے کا موقع کھو دیا تھا، تو پورے ملک کا نقصان ہوگا۔۔۔۔۔ ساری دنیا میں کیتھلکس اور غیر کیتھلکس کی نظر میں، تاریخ کی نظر میں، اور خود اپنے عوم کی نظروں میں۔

لیکن اگر، بصورت دیگر، میں چناؤ جیت جاتا ہوں تو میں صدارت کے حلف نامے کو پورا کرنے کے لیئے اپنے دماغ اور روح کا پورا زور لگا دونگا اور میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بالکل اسی طرح میں اپنا وہ حلف بھی پورا کرونگا جو میں پچھلے 14 سالوں سے کانگریس میں لیتا رہا ہوں۔ تو بغیر کسی جھجک کے " میں یہ قسم کھاتا ہوں کہ میں پوری وفاداری کے ساتھھ صدر کے عہدے پر عمل درآمد کرونگا اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آئین کی سلامتی، حفاظت اور دفاع کے لیئے کام کرونگا۔ تو اے خدا میری مدد کر۔