صدر جان ایف کینیڈی
وہائیٹ ہاؤس
1963 جون 11

میرے ساتھی شہریو، شام بخیر:

آج دوپہر کو، لگاتار دھمکیوں اور سرکش بیانات کے بعد، الاباما یونیورسِٹی پرموجود الاباما نیشنل گارڈسمین کوالاباما کے شُمالی ضلع کے یونائیٹڈ اِسٹیٹس کی ضلعی عدالت کے آخری اور واضح حُکم کو لاگو کرنا پڑا۔ وہ حُکم یہ تھا کہ الاباما کے دوایسے رہنے والوں کو داخلہ دیا جائے جوکہ صاف طور سے قابِل تھے اور پیدائیشی طور پر نیگرو تھے۔

دونوں کو پُرامن طور پر کیمپس میں داخلہ مِل گیا۔ ایک بڑی حد تک اِس کی وجہ ہیں الاباما یونیورسِٹی کے طالبِ علم، جنہوں نے اپنی ذمّداریوں کو ایک تعمیرانہ طریقے سے نبھایا۔

مجھے اُمّید ہے کہ ہر امریکی، قطع نظر اِس کے کہ وہ کہاں رہتا ہے، ذرا رُک کراپنے ضمیر کو اِس واقع اور اِس سے متعلق دوسرے واقعات سے جوڑ کر جانچےگا۔ اِس قوم کی بُیاد بہت سے قوموں اورپسِ منظرکے اشخاص نے رکھی تھی۔ اِس قوم کی بُنیاد اِس اصول پر رکھی گئی تھی کہ ہر شخص کو مساوی طور پر پیدہ کیا گیا ہے اوراگر ایک اِنسان کے حق کو خطرہ ہوا توسارے اِسانوں کے حقوق دب جائنگے۔

آج ہم عالمی طور پر ہر اُس شخص کے حقوق کی حفاظت اور ترقّی کی جدّوجہد پر کاربند ہیں، جو کہ آزاد رہنا چاہتا ہے۔ اور جب ہم امریکیوں کوویت نام یا مغربی برلِن بھیجتے ہیں تو ہم صرف گورے لوگوں سے جانے کو نہیں کہتے۔ لِہٰذہ ہررنگ کے امریکی کے لئے یہ ممکن ہونا چاہئیے کہ وہ بغیر کسی فوجی پُشت پناہی کے، اپنی پسند کے کِسی بھی عوامی اِدارے میں داخلہ پا سکے۔

کِسی بھی رنگ کے امریکی گراہک کے لئے یہ ممکن ہونا چاہئیے کہ اُسے سارے عوامی مقامات، جیسے کہ ہوٹل، ریستوران، ٹھییٹریا دوکانوں پر،بغیرسڑکوں پرمُظارہ کیئے، مساوی طور پر خِدمات حاصِل ہونی چاہئیں، اور کِسی بھی رنگ کے امریکی شہری کے لئے یہ ممکن ہونا چاہئیے کہ وہ بغیر کِسی خوف یا اِنتقامی کارروائی کے، ایک آذاد چُناؤ میں اپنا نام درج کرا سکے۔

مُختصراً، ہر امریکی کو، بِلا اِمتیازِ رنگ و نسل، امریکی ہونے کے سارے مفادات حاصِل ہونے چاہئیے۔ مُختصراً، ہر امریکی کوحق ہونا چاہئیے کہ اُس کے ساتھھ ویسا ہی برتاؤ کیا جائے جیسا کہ وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے، جیسا کہ وہ اپنے بچّوں کے لئے پسند کرتا ہے۔ لیکن ایسی صورتِ حال نہیں ہے۔

آج امریکہ میں جو نیگرو بچّہ پیدہ ہوتا ہے، قطع نظراِس کے کہ وہ مُلک کے کِس حِصہ میں پیدہ ہوا ہے، اُس کے، اُسی حِصہ میں، اُسی دِن، پیدہ ہونے والے ایک گورے بچّے کے مُقابلے میں ھائی اِسکول پورا کرنے کے آدھے مواقع ہوتے ہیں۔ اورکالِج پورا کرنے کے ایک تہائی، ایک پیشہ ور بننے کے ایک تہای اور بے روزگار رہنے کے دوہرے مواقع ہوتے ہیں، دس ہزار ڈالر سالانہ کمانے کے1/7 مواقع اوراوسط جینے کی عمر7 سال کم اوردولت کمانے کے آدھے مواقع ہوتے ہیں۔

یہ ایک علاقائی مسلہ نہیں ہے۔ علیحدگی اورتعصُب ہر شہر میں اور مرکز کے ہر صوبے میں موجود ہیں، یہ بہت سے شہروں میں بے اِطمینانی کی ایک اُبھرتی ہوئی لہرپیدہ کرتے ہیں جو عوامی تحفظ کے لئے ایک خطرہ ہے۔ یہ ایک یک طرفہ مسلہ بھی نہیں ہے۔ گھریلو بُحران کے وقت نیک اِرادے رکھنے والے فیّاض لوگوں کو پارٹی اور سیاست سے اونچا ہوکر متّحد ہو جانا چاہیٔے۔ یہ صرف ایک قانونی یا قانون سازی کا مسلہ بھی نہیں ہے۔ اِن معاملات کوسڑکوں کے بجائے عدالتوں میں نپٹانا بہتر ہوگا اور ہر سطح پر نئے قوانین کی ضرورت ہے لیکن اکیلا قانون لوگوں کو صحیح بات تسلیم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔

بُنیادی طور پرہمارا سامنا ایک اخلاقی مسلے سے ہے۔ یہ آسمانی صحیفوں کی طرح پُرانا اور امریکی منشور کی طرح واضح ہے۔

بُنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سارے امریکیوں کو مساوی حقوق اور مواقع مِلنے چاہیٔے، کیا ہم اپنے ساتھی امریکیوں سے بھی ویسا ہی برتاؤ کرینگے جیسا کہ خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ اگر ایک امریکی صرف اس لئے ایک ریستورن میں، جوکہ عوام کے لئے کھُلا ہے، کھانا نہیں کھا سکتا کیونکہ اُسکا رنگ سیاہ ہے، اپنے بچّوں کو بہترین عوامی اسکولوں میں نہیں بھیج سکتا، اگر وہ عوامی افسران کو ووٹ نہیں دی سکتا جو اُس کی نُمائیندگی کر سکے، مُختصراً اگر وہ ایسی مُکمّل اورآزاد زندگی نہ جی سکے جیسی کہ ہم سب چاہتے ہیں، تو ہم میں سے کون یہ چاہے گا کہ اپنی جِلد کا رنگ بدل کر اُس کی جگہ کھڑا ہو جائے؟ ہم میں سے کون صبر اور تاخیر کے مشیروں سے اِتّفاق رکھھ سکے گا؟

صدر لنکن کو غُلاموں کو آزاد کرانے کے بعد سو سال کی تاخیر ہو چُکی ہے لیکن اب بھی اُن غُلاموں کے وارث، اُن کے پوتے مُکمّل طور سےآزاد نہیں ہیں۔ وہ اب بھی نا اِنصافی کی زنجیروں سے چھُٹکارا نہیں پا سکے ہیں۔ وہ اب بھی سماجی اوراِقتصادی نا اِنصافی سے آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ مُلک اپنی ساری اُمّیدوں اور شیخیوں کے باوجود تب تک مُکمّل طور پر آزاد نہیں ہو سکے گا جب تک کہ اُس کے سارے شہری آزاد نہین ہو جاتے۔

ہم ساری دنیا میں آزادی کی تبلیغ کرتے ہیں، اور ہم اس میں پرخلوص ہیں اور ہم یہاں اپنے وطن میں اس آزادی کی پرورش کرتے ہیں، لیکن کیا ہمیں دنیا سے اور اس سے بھی اہم اپنے آپ سے یہ کہنا چاہیئے کہ یہ سرزمین آزاد لوگوں کی ہے صرف نیگروز کے علاوہ ، ہمارے ملک میں کوئی دوسرے درجے کا شہری نہیں ہے صرف نیگروز کے علاوہ، یہاں کوئی طبقہ یا ذات پات کا نظام نہیں ہے، کوئی اقلیتی محلّہ نہیں ہے، کوئی محکوم نسل نیں ہے صرف نیگروز کے علاوہ؟

اب اس قوم کے لئے وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے۔ برمنگھم اور دوسرے مقامات کے واقعات نے مساوات کی مانگ کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ اب کوئی بھی شہر، ریاست یا قانون ساز ادارہ جان بوجھ کر ان سے چشم پوشی نہیں کر سکتا۔

مایوسی اور نا اتّفاقی کے شعلے ہر شہر میں، شمال میں اور جنوب میں، ہر اس جگہ بھڑک رہے ہیں جہاں قانونی چارہ جوئی میسّر نہیں ہے، درستگی کو سڑکوں پر مظاہرات، احتجاج اور پریڈ کے زریعہ تلاش کیا جا رہا ہے جو تناؤاورتشدد پیدہ کر رہے ہیں اور زندگیوں کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

لہٰذہ ہم ایک ملک اور ایک قوم کے طور پر ایک اخلاقی مسلے کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا مقابلہ دبانے والی پولس کی طاقت سے نہی کیا جا سکتا اسے سڑکوں پر بڑھتے ہوئے مظاہرات پر بھی نہیں چھوڑا جا سکتا، اسے علامتی اعمال اور بات چیت سے بھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کانگریس کے حرکت میں آنے کا وقت ہے، اپنی ریاست میں، اپنے مقامی قانون ساز ادارے میں اور سب سے بڑھ کر اپنی روز مرّہ زندگیوں میں۔

صرف دوسروں پر زمّہ داری ڈالنا ہی کافی نہیں ہے، نہ ہی یہ کہنا کہ یہ ملک کے ایک یا دوسرے علاقے کا مسلہ ہے اور نہ ہی اس حقیقت کی مذمّت کرنا جو ہمارے سامنے ہے۔ ایک عظیم تبدیلی ہمارے ہاتھ میں ہے، اور ہمارا کام اور ہمارا فرض اس انقلاب کو لانا ہے، اس تبدیلی کو لانا ہے جو سب کے لئے پرامن اور تعمیری ہو۔

جو کچھھ بھی نہیں کر رہے ہیں وہ شرم اور تشدد کو دعوت دے رہے ہیں۔ جو دلیرانہ طور پر عمل کر رہے ہیں وہ سچ اور حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔

اگلے ہفتے میں ریاست ہائے متّحدہ کی کانگریس سے حرکت میں آنے کے لئے کہونگا، اس پابندی کو لاگو کرنے کے لئے جو اس نے اس صدی میں پوری طرح سے نہیں نبھائی ہے اور وہ یہ کہ نسل کی امریکی زندگی یا قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ فیڈرل عدلیہ نے اس پابندی کو اپنے ضابطوں میں برقرار رکھا ہے، بشمول فیڈرل افسران کی تقرّری، فیڈرل سہولتوں کے استعمال اور فیڈریشن کی مالی امداد سے بنے مکانات کی فروخت۔

لیکن کچھھ اقدام ایسے ہیں جو صرف کانگریس ہی مہیّا کر سکتی ہے اور یہ اسی سیشن میں مہیّا ہونے چاہیئے۔ مساوی قانون کے پرانے ضابطے، جن کے تحت ہم رہ رہے ہیں، ہر غلطی کی اصلاح کا حکم دیتے ہیں، لیکن بہت سارے فرقوں میں، ملک کے بہت سے حصّوں میں، نیگرو شہریوں پر، مظالم توڑے جا رہے ہیں اور قانونی طور پر کوئی اصلاح نہیں ہو رہی ہے۔ جب تک کانگریس حرکت میں نہیں آتی ان کی اصلاح سڑکوں پر ہی ہوتی رہے گی۔

اسی لئے میں کانگریس سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسے قوانین لاگو کرے جو سارے امریکیوں کو وہ ساری خدمات کو پانے کا حق دے جو عوامی اداروں میں میسّر ہیں، جیسے کہ ہوٹل، ریستوران، تھیٹر، دوکانیں اور ایسے ہی دیگر مقامات۔

میری نظر میں یہ ایک بنیادی حق ہے۔ اس سے کسی کو محروم رکھنا ایک خود مختارانہ ذلّت ہے جو 1963 میں کسی بھی امریکی کو برداشت نہیں کرنی چاہیئے، لیکن بہت سے لوگ اسے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

حال ہی میں میں بہت سے کاروباری رہنماؤں سے ملا اور اس نا انصافی کو رضاکارانہ طور پرختم کرنے پر اکسایا، ان کے جواب سے مجھے حوصلہ ملا اور پچھلے دو ہفتوں میں پچھتر شہروں کے اندر ان ناانصافیوں کو ختم کرنے میں ترقّی دیکھی گئی۔ لیکن بہت سے لوگ اکیلے ایسا کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور اسی لئے سارے ملک میں ایسے قوانین کی ضرورت ہے تاکہ اس مسلے کو سڑکوں سے عدالتوں میں منتقل کیا جا سکے۔

میں کانگریس سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ فیڈرل حکومت کو ایسے سارے مقدمات میں شرکت کرنے کا اختیار دے جو عوامی تعلیم میں نسلی علیحدگی کو ختم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم بہت سے ضلعوں کو رضاکارانہ طور پر نسلی علیحدگی ختم کرنے پر راضی کر چکے ہیں۔ درجنوں اداروں نے نیگروز کو بغیر تشدد کے داخلہ دیا ہے۔ آج ایک نیگرو ہماری 50 ریاستوں میں ہر ریاست کے امداد شدہ ادارے میں شرکت کر رہا ہے۔ لیکن ابھی رفتار بہت دھیمی ہے۔

بہت سے نیگرو بچّے، جو 9 سال پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت ، نسلی علیحدگی والے گریڈ اسکولوں میں داخل ہوئے تھے وہ اس سال بھی نسلی علیحدگی والے ہائی اسکولوں میں داخل ہونگے اور ایسا نقصان اُتھائینگے جو کبھی پورا نہ ہو پائے گا۔ مناسب تعلیم کا فقدان ایک نیگرو کو ایک اچّھی نوکری سے محروم رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانا صرف اُن لوگوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا جن کے پاس قانونی چارہ جوئی کے لئے مالی وسائل نہیں ہیں اور جن کو پریشانی میں ڈالا جا سکتا ہے۔

دیگر سہولتوں کے لئے بھی درخواست کی جائے گی بشمول ووٹ کرنے کے حق سے زیادہ تحفّظ کے۔ لیکن میں پھر دوہراؤں گا کہ صرف قانون سازی سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا۔ اس مسلے کو سارے ملک میں ہر فرقے میں، ہر امریکی کے گھر میں حل کرنا چاہیئے۔

اس سلسلے میں میں شمال اور جنوب کے ان شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں جو اپنے فرقوں میں سب کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وہ سب کسی قانونی فرض کے تحت عمل نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک انسانی شائستگی کے تحت یہ عمل کر رہے ہیں۔

ساری دنیا میں ہمارے زمینی اور بحری فوجیوں کی طرح یہ لوگ بھی آزادی کے تحفّظ کے لئے ایک چیلینج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ میں ان کو ان کی آن اور شجاعت کے لئے سلام کرتا ہوں۔

میرے ساتھی امریکیو، یہ ایک ایسا مسٔلہ ہے جو ہم سب کے سامنے ہے، شمال اور جنوب کے ہر شہر میں۔ آج گوروں کے مقابلے میں نیگرو دوگنی یا تگنی تعداد میں بے روزگار ہیں، یہ تعلیم میں کمتر ہیں، بڑے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں، یہ روزگار پانے میں ناکام ہیں، خاص طور سے نوجوان بیکار ہیں اور نا اُمّید ہیں، ان کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے، انھیں ریستورانوں میں کھانے کی اجازت نہیں ہے، کسی تھییٹر میں فلم دیکھنے کی اجازت نہیں ہے، اچّھی تعلیم کے حق سے انھیں محروم کر دیا گیا ہے، اہلیت ہونے کے باوجود آج بھی انھیں ریاستی یونیورسٹیوں میں داخلہ نہیں ملتا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ معاملات ہم سب کے لئے باعث فکر ہیں، صرف صدر یا کانگریسمین یا گورنر کے لئے نہیں بلکہ ہر امریکی شہری کے لئے۔

یہ ملک ایک ہے۔ یہ ملک ایک اس لئے بنا ہے کہ یہاں جتنے لوگ آتے ہیں ان سب کو اپنی قدرتی قابلیت کو نشونماں دینے کے مساوی مواقع فراہم ہوتے ہیں۔

ہم اپنی آبادی کے 10 فی صد لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ آپ کے بچّے اپنی قدرتی صلاحیتوں کی نشونما کر سکیں، آپ کے پاس اپنے حقوق حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ آپ سڑکوں پر مظاہرہ کریں۔ میرے خیال سے ہم اُن کو اور اپنے آپ کو ایک بہتر وطن دینے کے حقدار ہیں۔

لہٰٰذا میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ جیسا مساوی طرزِ عمل ہم خود اپنے لئے چاہتے ہیں ویسا ہی دوسروں کو بھی مہیّا کرنے میں ہماری مدد کریں اور ہر بچّے کو اپنی صلاحیتوں کی پوری حد تک تعلیم پانے کا موقع دیں -

جیسا کہ میں پہلے کہہ چُکا ہوں، ہر بچّے میں ایک جیسی صلاحیت نہیں ہوتی، نہ ہی ایک جیسی قابلیت اور ایک جیسا عزم ہوتا ہے، لیکن اُسے اپنی صلاحیت، قابلیت اور عزم کے نشونما کرنے کے لئے ایک مساوی حق ضرور ہونا چاہئیے تاکہ وہ کچھھ بن کر دکھا سکے۔

ہمیں اس بات کی توقع کرنے کا حق ہے کہ نیگرو سماج ذمّہ دار بنے اور قانون کا احترام کرے، لیکن اُنھیں بھی اس بات کی توقع کرنے کا حق ہے کہ قانون انصاف پسند ہوگا، کہ منشور لوگوں کے رنگ کے بنا پر تمیز نہ کرے جیسا کہ جج حارلان نے صدی کی شروعات میں کہا تھا۔

اسی سلسلے میں ہم بات چیت کر رہے ہیں اور یہی مسلہ ہمارے وطن اور اس کے بنیادی اصولوں کے لئے باعثِ فکر ہے اور میں اپنے سارے شہریوں سے اسی مسلہ کو حل کرنے میں مدد کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔