صدر جان ایف کینیڈی
واشنگٹن، ڈی۔سی۔>
1963 جون10

صدر اینڈرسن، فیکلٹی کے ممبران، بورڈ آف ٹرسٹیز، معزز محمانان، میرے دیرینہ دوست سینیٹر باب بائیرڈ، جنھوں نے سالوں سال نائیٹ لا اسکول میں پڑھ کر اپنی ڈگری حاصل کی، جبکہ میں اپنی ڈگری اگلے 30 منٹوں میں حاصل کرنے والا ہوں، معزز محمانان، خواتین اور حضرات

میں امریکن یونیورسٹی کی اس تقریب میں شرکت کرتے ہوئے بہت بڑا فخر محسوس کر رہا ہوں،امریکن یونیورسٹی جس کا کفیل میتھڈسٹ چرچ ہے، جس کی بنیاد بشپ جان فلیچر ہرسٹ نے رکھی اور پہلی بار صدر ووڈرو ولسن نے 1914 میں جسکا افتتاح کیا۔ یہ ایک کم عمر اور ترقّی پزیر یونیورسٹی ہے لیکن یہ بشپ ہرسٹ کی ان روشن اُمّیدوں کو پورا کر چکی ہے، جو اُنھیں تواریخ اور عوامی معملات کے مطالعہ کی نسبت سے تھیں۔ ایک ایسے شہر میں جس نے اپنے آپ کو تاریخ سازی اور عوامی کاروبار کی رہنمائی کے لئے وقف کر رکھا ہے۔اس ادارے کی کفالت کر نے پر ، جو بلا امتیازِ رنگ و نسل، ہر اس شخص کے لئے بنا ہے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، اس علاقے اور سارے ملک کے میتھڈست قوم کے شکریہ کے مستحق ہیں اور میں ان سارے لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جو آج یہاں سے گریجویشن کر رہے ہیں۔

پروفیسر ووڈرو ولسن نے ایک بار کہا تھا کہ ایک یونیورسٹی سے نکلے ہوئے ہر آدمی کو اپنی قوم کا اور اپنے وقت کا آدمی ہونا چاہیئے اور مجھے یقین ہے کہ اس تعلیمی ادارے سے گریجویشن کا وقار حاصل کرنے والے مرد اور عورتیں اپنی زندگیوں سے اور اپنی صلاحیتوں سے عوام کی خدمت اور عوام کی مدد کا ایک بڑا حصّہ دینا جاری رکھینگے۔

کچھھ زمینی چیزیں ہیں جو ایک یونیورسٹی سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں، یہ بات جان میسفیلڈ نے انگریزی یونیورسٹیز کی تعریف میں لکھی تھی اور ان کے یہ الفاظ آج بھی اتنے ہی سچ ہیں۔ ان کا اشارہ میناروں اور گول آہنی سیڑھیوں یا کیمپس کی ہریالی اور بیلوں سے ڈھکی دیواروں کی طرف نہیں تھا، وہ یونیورسٹی کی شاندار خوبصورتی کی تعریف کر رہے تھے، کیونکہ "یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لاعلمی سے نفرت کرنے والے علم حاصل کرنے کی جدّو جہد کریں اور جو حق کو جاننا چاہتے ہیں وہ دوسروں کو حق بات دکھانے کی جدّو جہد کریں۔

اسی لئے میں نے یہ وقت اور یہ مقام چُنا ہے، ایک ایسے موضوع پر بات کرنے کے لئے جس کے بارے میں لاعلمی بہت بڑھی ہوئی ہے اور حق کو بہت کم پہچانا گیا ہے۔ اور وہ موضوع ہے عالمی امن۔

میرا مطلب کس قسم کے امن سے ہے؟ ہم کس قسم کا امن تلاش کر رہے ہیں؟ ایک پیکس امیریکانا نہیں جسے دنیا پر امریکی جنگی ہتھیاروں کے ذریعے لاد دیا جائے۔ ایک قبر کا امن نہیں اور نہ ہی ایک غُلام کا تحفّظ۔ میں اصلی امن کی بات کر رہا ہوں، اس قسم کا امن جو زمین پر زندگی کو جینے کے قابل بناتا ہے، اس قسم کا امن جو انسانوں اور قوموں کو پھلنے پھولنے کے قابل بناتا ہے ، جو انھیں اُمّید کے اور اپنے بچّوں کو ایک بہتر زندگی دینے کے قابل بناتا ہے۔ امن صرف امریکیوں کے لئے نہیں بلکہ تمام مرد اور عرتوں کے لئے۔ امن صرف اپنے وقت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے۔

میں امن کی بات جنگ کے نئے چہرے کی وجہ سے کرتا ہوں۔ ایک ایسے دور میں مکمل امن کوئی معنی نہیں رکھتا جس میں عظیم طاقتیں نسبتاً ناقبلِ شکست ایٹمی ہتھیار رکھتی ہیں اور انھیں استعمال کیئے بغیر مغلوب ہونے سے انکار کرتی ہیں۔ امن اس دور میں کوئی معنی نہیں رکھتا جہاں صرف ایک ایٹمی ہتھیار میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران سارے حلیف ممالک کی ایر فورس کی دھماکے دار ہتھیاروں سے زیادہ دھماکہ کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ امن اس دور میں کوئی معنی نہیں رکھتا جہاں ایٹمی جنگ سے پیدہ ہونے والے مہلک زہر ہوا، پانی، مٹّی اور بیجوں کے ذریعے، دنیا کے دور دراز علاقوں اور اگلی نسل تک پہنچینگے جو ابھی پیدہ نہین ہوئی ہے۔

آج امن قائم رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم کروڑوں ڈالرز سالانہ ان ہتھیاروں پر صرف اس مقصد کے لئے خرچ کریں کہ ہمیں کبھی بھی انھیں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن یقیناً ایسے غیرمحرک ہتھیاروں کے ذخیرے جمع کرنا، جو صرف تباہ کر سکتے ہیں اور کچھھ پیدہ نہیں کر سکتے، امن کو برقرار رکھنے کا ایک اکیلا اور کارگر طریقہ نہیں ہو سکتا ۔

اسی لئے میں امن کی بات معقول لوگوں کی ایک معقول ضرورت کے طور پر کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ امن کی کوشش، جنگ کی کوشش سے زیادہ ڈرامائی نہیں ہے۔۔ اور یہ کوشش کرنے والے کی آواز بہرے کانوں پر ہی پڑتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس سے زیادہ ضروری اور کوئی کام نہیں۔

کچھھ لوگوں کا کہنا ہے کہ امن کی بات کرنا یا عالمی قانون یا عالمی تخفیفِ اسلحہ کی بات کرنا بیکار ہے۔۔ اور یہ تب تک بیکار رہیگا جب تک سوویت یونین ایک روشن خیال رویّہ نہیں اختیار کرتا۔ میں اُمّید کرتا ہوں کہ وہ ایسا کرینگے۔ میرا ماننا ہے کہ ہم ایسا کرنے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ہمییں خود اپنے رویّے پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیئے۔۔ انفرادی طور پر اور ایک قوم کے طور پر بھی۔۔ کیونکہ ہمارا رویّہ بھی ان کے رویّے کی طرح لازمی ہے۔ اور اس اسکول کے ہر گرجویٹ، اور غوروفکر کرنے والے شہری کو جو جنگ سے بیزار ہے اور امن چاہتا ہے، خود اپنے گریبان میں جھانک کر شروعات کرنی چاہیئے اپنے رویّے کے معائینے کی، امن قائم کرنے کی طرف، سوییت یونین کی طرف، سرد جنگ کی طرف، اور یہاں اپنے گھر میں آزادی اور امن کی طرف۔

پہلے ہم امن کی طرف اپنے رویّے کا معائینہ کرتے ہیں۔ ہم مین سے بہت سے لوگ یہ مانتے ہین کہ یہ ناممکن ہے۔ بہت سے سمجھتے ہیں کہ یہ غیر حقیقی ہے۔ لیکن یہ ایک خطرناک، شکست خوردہ عقیدہ ہے۔ یہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ جنگ ناگُزیر ہے، کہ انسانیت قریب الختم ہے۔۔کہ ہم ایسی قوّتوں کی گرفت میں ہیں جن پر ہمارا کوئی قابو نہیں ہے۔

ہمیں اس نقطۂ نظر کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے مسائل انسان کے بنائے ہوئے ہیں اس لئے وہ انسان ہی کی معرفت حل بھی ہو سکتے ہیں۔ اور انسان جتنا بھی چاہے بڑا ہو سکتا ہے۔ انسانی مقدّر کا کوئی بھی مسٔلہ انسانوں کی پہنچ سے پرے نہیں ہے۔ انسان کی منطق اور حوصلہ کئی بار ناقابلِ حل مسٔلوں کو حل کر چُکے ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ وہ پھر ایسا کر سکتے ہیں۔

میں امن اور بہبود کے قطعی اور لامحدود تصوّر کی طرف اشارہ نہیں کر رہا ہوں، جس کا خواب کچھھ سراب خیال اور جنونی لوگ دیکھتے ہیں۔ میں اُمّید اور خوابوں کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا لیکن ہم صرف ان چیزوں کو اپنی فوری منزل مان کر صرف مایوسی اور بے اعتقادی کو ہی دعوت دینگے۔

اس کے بجائے ہم ایک زیادہ قابلِ عمل اور آسانی سے پا لینے والے امن پر غور کرتے ہیں۔ جس کی بنیاد انسان کی فطرت میں اچانک آ جانے والے انقلاب پر نہیں بلکہ انسانی اداروں میں بہ تدریج آنے والے ارتقاء پر ہے۔ سلسلے وار، ٹھوس کارگردی اور پُر اثر اقرارناموں پر ہے جو سب کے لئے فائدہ مند ہوں۔ اس امن کی کوئی ایک سادی سی چابی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عظیم اور جادوئی فارمولہ ہے، جسے ایک یا دو طاقطیں اپنا سکیں۔ اصلی امن بہت سی قوموں کی پیداوار ہونا چاہیئے، بہت سے اعمال کو جمع ہونا چاہیئے، اسے محرّک ہونا چاہیئے نہ کہ ٹھیرا ہوا، ہر نئی نسل کے چیلنج کے ساتھھ تبدیل ہوتا ہوا، کیونکہ امن ایک سلسلہ ہے، مسائل کو سلجھانے کا ایک طریقہ ہے۔

ایسے امن میں بھی تکرار اور مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، جیسا کہ خاندانوں اور قوموں میں ہوتا ہے۔ عالمی امن میں، فرقوں کے امن کی طرح یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر آدمی اپنے پڑوسی سے پیار کرے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان میں ایک مشترک قوّتِ برداشت ہو اور وہ اپنے جھگڑوں کو ایک انصاف پسند، پرامن تصفیہ کے سپرد کر دیں۔ تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ قوموں کے بیچ دشمنی، افراد کے بیچ دشمنی کی طرح ہمیشہ کے لئے نہین ہوتی۔ ہماری پسند اور نا پسند چاہے جتنی ہی منجمد نظر آئے، وقت اور واقعات کی لہر اکثر قوموں اور پڑوسیوں کے رشتوں میں ایک حیرت انگیز تبدیلی لائے گی۔

تو ہمیں صبر سے کام لینا چاہیئے۔ امن کا ناقابلِ عمل ہونا ضروری نہیں اور جنگ کا لازمی ہونا بھی ضروری نہیں، اپنی منزل کی صاف طور سے وضاحت کرکے، اسے قابلِ انتظام اور کم دور دراز بنا کر ہم سارے لوگوں کو اسے دکھا نے اور اس سے اُمّید پانے اور اسکی طرف بے تحاشہ بڑھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

دوسری بات، ہمیں سوویت یونین کی طرف اپنے رویّے کا دوبارہ معائینہ کرنا چاہیئے۔ ایسا سوچنا حوصلہ شکن ہے کہ اُن کے پروپا گنڈا کرنے والے جو بھی لکھتےہیں اُسے اُن کے رہنُما سچ مانتے ہیں۔ فوجی منصوبے پر ایک حالیہ سوویت رپورٹ پڑھنا بھی حوصلہ شکن ہے جس میں، صفح در صفح، حیرت انگیز اور بے بنیاد دعوے کیئے گئے ہیں، جیسے کہ یہ الزام کہ "امریکی سامراجی حلقے مختلف قسم کی جنگوں کی تیّاری کر رہے ہیں۔۔۔۔اور سوویت یونین کے خلاف امریکی سامراجیوں کی طرف سے ایک احتیاطی جنگ کا بڑا خطرہ ہے۔ اور یہ کہ امریکی سامراجیوں کا سیاسی عزم یہ ہے کہ یوروپیین اور دوسرے سرمایہ دار ممالک کو سیاسی اور اقتصادی غلام بنا لیا جائے اور جارحانہ جنگوں کے ذریعے ساری دنیا پر قبضہ کر لیا جائے۔

سچ مچ، جیسا کہ بہت دنوں پہلے لکھا گیا تھا "جب کوئی ان کا پیچھا نہیں کرتا تو خراب لوگ بھاگ جاتے ہیں" لیکن پھر بھی، یہ سوویت بیانات پڑھ کر افسوس ہوتا ہے اور یہ جان کر بھی کہ ہمارے بیچ کھائی کتنی گہری ہے۔ لیکن یہ ایک انتباہ بھی ہے۔۔ امریکی عوام کو ایک انتباہ ہے کہ وہ سوویتس کی طرح اس جال میں نہ پھنسیں اور مخالف رُخ کی صرف ایک مسخ شدہ اور مایوس کن تصویر نہ دیکھیں، تکرار کو لازمی نہ سمجھیں، مطابقت کو ناممکن نہ جانیں اور رابطے کو صرف دھمکیوں کا تبادلہ نہ سمجھیں۔

کوئی حکومت یا سیاسی نظام اتنا بُرا نہیں ہو سکتا کہ اس کے لوگوں کو خوبیوں سے خالی سمجھا جائے۔ امریکیوں کے طور پر ہم اشتراکیت کو بہت ہی ناگوار سمجھتے ہیں کیونہ یہ آزادی اور وقار کا منکر ہے، لیکن پھر بھی ہم بہت سے کارناموں پر روسی عوام کی تعریف کرتے ہیں جیسے کہ سائینس اور خلاء کا علم، اقتصادی اور صنعتی ترقّی، تعہذیب اور شجاعت۔

ہم دونوں ممالک کے لوگوں میں جو بہت سے مشترک رجحانات ہیں ان میں سب سے زیادہ مضبوط ہے ہماری جنگ سے نفرت۔ بڑی عالمی طاقتوں میں ہمارے اندر ایک منفرد بات یہ ہے کہ ہمارے بیچ کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ اور لڑائی کی تاریخ میں کسی ملک نے اتنا نقصان نہیں اُٹھایا ہے جتنا کہ سوویت یونین نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران اُٹھایا۔ کم سے کم دو کروڑ لوگوں نے اپنی جان گنوائی۔ انگنت کروڑوں گھر اور کھیت جلائے گئے یا تباہ کر دیئے گئے۔ ملک کا ایک تہائی حصّہ، بشمول تقریباً دو تہائی صنعتی علاقہ کو، کھنڈروں میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ نقصان اس ملک میں شکا گو کے مشرقی علاقہ کی تباہی کے برابر ہے۔

آج اگر ایک مکمل جنگ شروع ہوتی ہے، چاہے وہ جیسے بھی ہو، ہم دونوں ممالک ہی پہلا نشانہ ہونگے۔ یہ ایک طعن آمیز لیکن بالکل صحیح حقیقت ہے کہ دو سب سے بڑی طاقتیں ہی وہ طاقتیں ہیں جنھیں تباہی کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جو کچھھ ہم نے تعمیر کیا ہے، جسے بنانے کے لئے ہم نے کام کیا ہے، وہ سب پہلے 24 گھنٹوں میں برباد ہو جائے گا۔ اور سرد جنگ میں بھی، جو بہت سے ممالک کے لئے بوجھھ اور خطرات لیکر آئی ہے، بشمول ہمارے نزدیکی اتحادیوں کے، سب سے زیادہ بوجھھ ہم دونوں ممالک کو ہی اُٹھانا پڑا ہے۔ کیونکہ ہم دونوں اسلحوں پر ایک بہت بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں جو بہتر طور پر جہالت، غریبی، اور بیماری پر خرچ کی جانی چاہیئے۔ ہم دونوں ایک ظالمانہ اور خطرناک چکّر میں پھنسے ہوئے ہیں، جسمیں ایک طرف کا شک دوسری طرف کے شک کو جنم دیتا ہے اور نئے ہتھیار ان کے مقابلے کے لئے اور نئے ہتھیار پیدہ کرتے ہیں۔

مختصراً امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کے بیچ ایک انصاف پسند اور اصلی امن کی اور اسلح جمع کرنے کی دوڑ کو ختم کرنے کی مشترک اور گہری دلچسپی ہے۔ اس مقصد کے لئے اقرار نامے سوویت یونین کے لئے اور ہمارے لئے بھی فائدے مند ہیں اور سب سے زیادہ مخالفانہ ممالک پر بھی صلح ناموں کو قبول کرنے اور ماننے کا بھروسہ کیا جا سکتا ہے، صرف انھیں صلح ناموں پر جو ہمارے لئے فائدہ مند ہوں۔

تو ہمیں اپنے اختلافات کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیئے۔۔ لیکن ہمیں اپنی توجّہ اپنے مشترک مفادات پر بھی دینی چاہیئے اور ان طریقوں پر بھی جن سے ہم اپنے اختلافات کو مٹا سکیں۔ اور اگر ہم ابھی اپنے اختلافات نہ بھی ختم کر سکیں تو کم سے کم ہم دنیا کو گونا گوئی کے ذریعے محفوظ تو بنا ہی سکتے ہیں۔ ایک آخری تجزیہ کے طور پر ہمارہ سب سے بنیادی اور مشترک تعلّق یہ ہے کہ ہم سب اس چھوٹے سے سیّارے پر بستے ہیں۔ ہم سب ایک ہی ہوا میں سانس لیتے ہیں۔ ہم سب اپنے بچّوں کے مستقبل کے لئے فکرمند ہیں اور ہم سب فانی ہیں۔

تیسری بات۔۔۔ ہمیں سرد جنگ کی طرف اپنے رویّے پر دوبارہ غور کرنا چاہیئے۔ یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ہم ایک مباحثے میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی بحث کے نکتوں کا ڈھیر لگا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم یہاں الزامات نہیں بانٹ رہے ہیں نہ ہی انصاف کی انگلی کسی پر اُٹھا رہے ہیں۔ ہمیں دنیا سے اُسی طرح پیش آنا چاہیئے جیسی کہ وہ ہے نہ کہ جیسی کہ وہ تب ہوتی جبکہ پچھلے 18 سالوں کی تاریخ مختلف ہوتی۔

تو اسی لئے ہمیں امن تلاش کرنے میں صبر کرنا چاہیئے، اس اُمّید کے ساتھھ کہ اشتراکی گروہ کے اندر کچھھ تعمیری تبدیلیاں آئینگی جو ان حلوں کو پہنچ کے اندر لائینگی جو ابھی ہماری پہنچ سے باہر لگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے معاملات اس طرح منظم کرنے چاہیئے کہ ایک اصلی امن کا اقرار اشتراکیوں کے حق میں فائیدہ مند ہو جائے۔ سب سے اوپر ہوکر ایٹمی طاقتوں کو، اپنے اہم مفادات کا تحفّظ کرتے ہوئے، ایسے ٹکراؤ کو ہٹانا چاہیئے جو کہ مخالف کو ایک ذلّت آمیز فرار یا ایٹمی جنگ، دونوں میں سے ایک کو چُننے پر مجبور کر دے۔ ایٹمی دور میں ایسا راستہ اپنا کر ہم اپنی پالسی کے دیوالیہ پن کا ثبوت دینگے یا ساری دنیا کے لئے موت کی خواہش کا ثبوت دینگے۔

ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے، امریکہ کے اسلحہجات اُکسانے والے نہیں ہیں، بڑی احتیاط کے ساتھھ قابو میں رکھے گئے ہیں، چھڑکانے کے لئے بنائے گئے ہیں اور چُنیدہ استعمال کے اہل ہیں۔ ہماری فوجی طاقتیں امن کے لئے کمربستہ ہیں اور خود کو روکنے کے آداب میں ماہر ہیں۔ ہمارے سفیروں اور سیاست کاروں کو بلا وجہ بھڑکانے والے بیانات اور خالص لفّاظی جنگ و جدل نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

کیونکہ ہم اپنے دفاعی پہرے کو نرم کیئے بغیر تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اور ہمیں اپنے آپ کو ثابت قدم ثابت کرنے کے لئے دھمکیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں اس ڈر سے غیرملکی نشریات کو روکنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمارے عقیدے کو کمزور کر دینگی۔ ہم اپنے نظام کو نا رضامند لوگوں پر لادنے پر رضامند نہیں ہیں۔ لیکن ہم دنیا کی کسی بھی قوم کا پر امن مقابلہ کرنے پر رضامند بھی اور اس کے اہل بھی۔

اسی دوران ہم اقوام متحدہ کو طاقتور بنانے کی کوشش کرینگے تاکہ وہ اپنے اقتصادی مسائیل کو حل کر سکے، امن کے حصول کے لئے ایک موئژر آلہ بن سکے، تاکہ وہ ایک اصلی عالمی امن قائم کرنے والا نظام بن سکے۔۔ ایک ایسا نظام جو قانون کی بنیاد پر اختلافات کو ختم کر سکے، جو چھوٹے بڑے سبھی کے تحفّظ کی ضمانت دے سکے اور ایسے حالات پیدہ کر سکے جن کے تحت سارے اسلحوں کو نیست و نابود کیا جا سکے۔

اسی کے ساتھھ ہمیں غیر اشتراکی ممالک میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، جہاں بہت سی اقوام، جو سب ہماری دوست ہیں اور ایسے مسائل پر بٹے ہوئے ہیں جو مغربی اتحاد کو کمزور کر رہے ہیں، جو اشتراکی دخل اندازی کو دعوت دے رہے ہیں یا جو جنگ کی صورت میں بھڑک سکتے ہیں۔ ہماری یہ کوششیں مغربی گنیا میں، کونگو میں، مشرقِ وسطہ میں اور ہندوستانی برّصغیر میں، دونوں طرف سے اعتراضات کے باوجود، دائم اور صبر کے ساتھھ قائم ہیں۔ ہم نے خود اپنے نزدیکی پڑوسیوں، میکسکو اور کینیڈا کے ساتھ چھوٹے مگر اہم اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرکے دوسروں کے لئے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسرے ممالک کی بات کرتے ہوئے میں ایک بات صاف کر دینا چاہتا ہوں۔ ہم بہت سے ممالک سے ایک اتحاد میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ اتحاد اس لئے موجود ہیں کیونکہ ہم سب کی زیادہ تر تشویشات مشترک ہیں۔ مثال کے طور پر مغربی یوروپ اور مغربی برلن کی حفاظت کرنے کا ہمارا اٹل ارادہ ہمارے لازمی مفادات کی شناخت کی وجہ سے کبھی کم نہیں ہوگا۔ امریکہ دوسرے ممالک اور اقوام کا نقصان کرکے کبھی بھی سوویت یونین کے ساتھھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ صرف اس لئے نہیں کہ وہ ہمارے شریک کار ہیں بلکہ اس لئے کہ ان کے اور ہمارے مفادات ایک ہیں

تاہم، ہمارے مفادات ایک، صرف آزادی کی حدود کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ امن کے راستے پرچلنے کی کوشش کرنے کے لئے بھی ہیں۔ یہ ہماری اُمّید۔۔ اور اتحادی پالیسی کا مقصد ہے کہ سوویت یونین کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ ہر ملک کو اپنا مستقبل چُننے دے، تب تک جب تک کہ یہ چُناؤ دوسروں کے چُناؤ میں دخل نہ دے۔ سوویت یونین کا دوسروں پر اپنا سیاسی اور اقتصادی نظام لادنا آج عالمی تناؤ کی بنیادی وجہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر سارے ممالک دوسروں کی خودمختاری میں دخل دینے سے پرہیز کریں تو امن بہت زیادہ یقینی ہو جائے گا۔

عالمی امن قائم کرنے کے لئے ایک نئی کوشش کی ضرورت ہوگی، عالمی مباحثے کے لئے نئے سیاق و سباق کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لئے روسیوں اور ہم میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اور زیادہ سمجھنے کے لئے زیادہ رابطے، زیادہ ترسیل کی ضرورت ہے۔ اس سمت میں ایک قدم ہے واشنگٹن اور ماسکو کے بیچ ایک براہِ راست فون لائین ڈالنے کی تجویز، جو دونوں طرف خطرناک تاخیروں، بد گمانیوں اور ایک دوسرے کے اقدام پر شکوک کو ٹالے گا جو ہنگامی حالات میں پیدہ ہو سکتے ہیں۔

ہم جینیوا میں اسلحات پر قابو پانے کے ان پہلے اقدامات کے بارے میں بھی بات چیت کر رہے ہیں جو اسلحات کی دوڑ کو کم کرنے اور ایک اتفاقی جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ تاہم جینیوا میں ہمارہ بنیادی اور دوررس مفاد ہے عام اور مکمل تخفیف اسلحہ، جو مختلف مراحل سے گزرنے کے لئے بنایا گیا ہے تاکہ ایک متوازی سیاسی ترقّی کو امن کے نئے ادارے بنانے کا موقع ملے اور وہ اسلحات کی جگہ لے سکیں۔ تخفیف اسلحہ کی جستجو 1920 سے اس حکومت کی کوشش رہی ہے۔ پچھلے تین انتظامیہ اسے حاصل کرنے کی فوری کوششیں کر چُکے ہیں اور اسکے امکانات کتنے ہی کم ہوں، ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور اس لئے جاری رکھینگے کہ سارے ممالک، بشمول ہمارے ملک کے، اس بات کو بہتر طور سے سمجھھ سکیں کہ تخفیف اسلحہ کے مسائل اور امکانات کیا ہیں۔

ان مذاکرات کا ایک بڑا حصّہ، جہاں مقصد تو صاف ہے لیکن ایک نئی شروعات کی سخت ضرورت ہے، وہ سمجھوتہ ہے جس کے تحت ایٹمی تجربات کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔ ایسے سمجھوتے کی تکمیل، جو نزدیک بھی اور دور بھی، ایک بڑھتی ہوئی اسلحے کی دوڑ کو، اپنے سب سے زیادہ خطرناک علاقے میں روک دیگی۔ یہ سمجھوتہ ایٹمی طاقتوں کو ایک ایسےمقام پر لا کھڑا کرےگا جہاں وہ 1963 میں انسانیت کے سب سے بڑے خطرے، یعنی بڑھتے ہوئے ایٹمی ہتھیار، کا مقابلہ زیادہ موئثر طریقے سے کر سکینگے۔ یہ ہمارے تحفّظ میں اضافہ کرےگا اور جنگ کے امکانات کو کم کرےگا۔ یقیناً یہ منزل اسقدر اہم ہے کہ ہم اس کی لگاتار کوششیں جاری رکھیں اور انھیں پوری طرح چھوڑ بیٹھنے کی خواہش کی تکمیل نہ کریں اور نہ ہی تحفّظ کے لازمی اور ذمّہ دار ہونے پر زور دینے کو چھوڑیں۔

تو میں اس موقعے پر، اس سلسلے میں دو اہم فیصلوں کا اعلان کرتا ہوں۔

پہلا فیصلہ: چیرمین خروشیف، وزیراعظم میکملن اور میں اس بات پر رضامند ہو گئے ہیں کہ جلد ہی ماسکو میں ایک اعلیٰ سطح کی گفت وشنید شروع کی جائے جس کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات پر پابندی لگانے کا ایک فوری اور مکمل اقرارنامہ تیّار کیا جائے۔ تاریخ نے ہمیں جو احتیاط سکھائی ہے وہ ہماری اُمّیدوں کو کم کرتی ہے لیکن ہماری اُمّیدوں کے ساتھھ ساری انسانیت کی اُمّیدیں جُڑی ہوئی ہیں۔

دوسرا فیصلہ: اس معاملے میں اپنے نیک عقیدے اور صالح یقین کو صاف کرنا۔ میں اسی وقت اعلان کرتا ہوں کہ امریکہ تب تک اس ماحول میں ایٹمی تجربات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جب تک دوسرے ممالک ایسا نہیں کرتے۔ ہم دوبارہ ایسا کرنے میں پہل نہیں کرینگے۔ ایسا اعلان ایک باقاعدہ، باندھنے والے سمجھوتے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا لیکن میں اُمّید کرتا ہوں کہ یہ ایسے سمجھوتے تک پہنچنے میں ہماری مدد کرےگا۔ ایسا سمجھوتہ تخفیف اسلحہ کا نعمل البدل بھی نہیں ہو سکتا لیکن میں اُمّید کرتا ہوں کہ یہ تخفیف اسلحہ تک پہنچنے میں ہماری مدد کرےگا۔

اور میرے امریکی ساتھیو، آخیر میں ہمیں یہاں، اپنے گھر میں، امن اور آزادی کی طرف اپنے رویّے کا معائینہ کرنا چاہیئے۔ خود اپے معاشرے کی کیفیت اور روح کو، بیرون ملک میں ہماری کوششوں کا جواز اور مددگار بننا چاہیئے۔ اسے ہمیں خود اپنی زندگیوں کے اخلاص میں دکھانا چاہیئے۔ آج آپ میں سے جتنے بھی یہاں گریجویشن کر رہے ہیں ان سب کے پاس، بیرون ملک میں، بغیر تنخواہ، پیس کارپس میں یا یہاں اپنے ملک میں تجویزکردہ نیشنل سروس کارپس میں اپنی خدمات دے کر، ایسا کرنے کا ایک منفرد موقع ہے۔

لیکن ہم جہاں بھی ہوں، ہم سب کو، اپنی روزمرّہ کی زندگیوں میں، اس قدیم عقیدے کے ساتھھ جینا ہے کہ امن اور آزادی ایک ساتھھ ہی پنپتے ہیں۔ آج ہمارے بہت سے شہروں میں امن اس لیئے قائم نہیں ہے کہ آزادی ادھوری ہے۔

حکومت کی ہر سطح پر، یعنی مقامی، صوبائی یا قومی، یہ انتظامیہ کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے سارے شہریوں کو، اپنے سارے اختیارات کی معرفت، آزادی مہیّا کرے اور اسکی حفاظت کرے۔ یہ بھی انتظامیہ کی ذمّہ داری ہے کہ جہاں بھی وہ اختیارات ناکافی ہیں، انھیں کافی بنائے۔ اورملک کے سارے حصّوں میں، یہ شہریوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ دوسرے شہریوں کے حقوق کا احترام کرے اور ملک کے قانون کا احترام کرے۔

یہ سب عالمی امن سے غیر متعلق نہیں ہے۔ آسمانی صحیفے ہم سے کہتے ہیں کہ " جب انسان کے اعمال سے خدا خوش ہوتا ہے تو وہ اسکے دشمنوں کو بھی اس کے ساتھھ امن سے رہنا سکھا دیتا ہے۔" اور کیا امن، ایک آخری تجزیہ میں، بنیادی طور پر انسانی حقوق کا معاملہ نہیں ہے؟ ۔ تباہی کے ڈر کے بغیر اپنی زندگیاں جینے کا حق، اس ہوا میں سانس لینے کا حق جو قدرت نے ہمیں مہیّا کی ہے، ایک صحتمند وجود کے لیئے آنے والی نسلوں کا حق۔

اپنے قومی مفادات کا تحفّظ کرتے ہوئے ہمیں انسانی مفادات کی حفاظت بھی کرنی چاہیئے اور جنگ اور اسلحہ کو ختم کرنے میں دونوں ہی کا مفاد ہے۔ کوئی بھی سمجھوتہ، چاہے وہ سب کے حق میں کتنا ہی فائدہ مند ہو اور چاہے کتنے ہی محتاط الفاظ میں لکھا جائے، مکمل طور پر حیلوں اور فریب کے خطروں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر اسے کافی موئثر طریقے سے لاگو کیا جائے اور اسکے دستخط کرنے والوں کے لیئے کافی مفاد میں ہو تو یہ ایک بنا روک ٹوک، بے قابو اور ناقابل پیشین گوئی اسلحات کی دوڑ سے کہیں زیادہ محفوظ اور کم خطرات والے حالات پیدہ کر سکتا ہے۔

ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کبھی جنگ شروع نہیں کرے گا۔ ہمیں ابھی ایک جنگ کی توقع نہیں ہے۔ امریکہ کی اس پیڑھی نے کافی، بلکہ کافی سے زیادہ جنگ، نفرت اور ظلم دیکھا ہے۔ اگر دوسرے یہ چاہتے ہیں تو ہم اس کے لیئے تیّار ہیں، ہم اسے روکنے کے لیئے مستعد رہینگے۔ ہم عالمی امن کے لیئے اپنا رول ضرور نبھائینگے، جہاں کمزور محفوظ ہوں اور طاقت ور انصاف پسند ہوں۔ ہم اس کام کرنے سے پہلے مجبور نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی کامیابی سے مایوس ہیں۔ پورے بھروسے کے ساتھھ اور بنا ڈرے ہم آگے بڑھتے رہینگے، تباہ کرنے والے منصوبوں کی طرف نہیں بلکہ امن کے منصوبوں کی طرف۔