دار الحکومت ریاستہائے متحدہ
واشنگٹن، ڈی. سی
جنوری 20، 1961

نائب صدر جانسن، جناب اسپیکر، جناب چیف جسسٹس، صدر آئزن ہاور، نائب صدر نکسن، صدر ٹرومین، عزت مآب پادری اور ہم وطن ساتھیو:

آج ہم پارٹی کی جیت کا نہیں بلکہ آزادی کا جشن منا رہے ہیں — جو ایک اختتام کے ساتھ ساتھ ایک آغاز کی علامت ہے — جو تجدید کے ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کا مظہر ہے۔ میں نے آپ اور خدا تعالی کے سامنے اسی باوقار عہد کا حلف لیا ہے جو ہمارے آباء و اجداد نے تقریبا ایک سو پچہتر سال پہلے تجویز کیا تھا۔

اب دنیا بہت مختلف ہے۔ کیونکہ انسان کے فانی ہاتھوں میں ہر طرح کی انسانی غربت اور ہر قسم کی انسانی زندگی کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔ اور اس کے باوجود وہی انقلابی عقیدے، جن کے لئے ہمارے آباء و اجداد نے لڑائیاں کی تھیں آج بھی پوری دنیا میں ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں — یعنی انسان کے حقوق ریاست کی کشادہ دلی سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے آتے ہیں۔

آج ہم بھول نہیں سکتے کہ ہم اسی اولین انقلاب کے جانشین ہیں۔ اس مقام اور جگہ سے یہ بات، دوست اور دشمن سبھی کے پاس یکساں طور پر پہنچنی چاہئے کہ یہ مشعل امریکیوں کی ایک ایسی نئی نسل کے سپرد کردی گئی ہے — جو اس صدی میں پیدا ہوئے ہیں، جو جنگ سے نالاں ہیں، انہیں ایک سخت اور تلخ امن کے ذریعہ منضبط کردیا گیا ہے، جو ہماری قدیم تہذیبی میراث پر نازاں ہیں — اور ان انسانی حقوق کو دھیرے دھیرے مٹتے ہوئے دیکھنے یا انہیں مٹانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جن کے تئیں یہ قوم ہمیشہ عہد بند رہی ہے اور جن کے تئیں ہم اپنے ملک اور پوری دنیا میں آج بھی عہد بند ہیں۔

ہر قوم کو جان لینا چاہئے، خواہ وہ ہمارے لئے نیک خواہشات رکھتی ہو یا بری، کہ ہم آزادی کی بقا اور کامیابی کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کریں گے، کوئی بھی بوجھ برداشت کریں گے، کسی بھی تکلیف کا سامنا کریں گے، کسی بھی دوست کا تعاون کریں گے اور کسی بھی دشمن کی مخالفت کریں گے۔

ہم اتنا — اور اس سے زیادہ کا عہد کرتے ہیں۔

ہم اپنے ان پرانے حلیفوں کے تئیں قابل اعتماد دوستوں کی طرح وفاداری کا عہد کرتے ہیں جن کی ثقافتی اور روحانی اصلیت میں ہم شریک ہیں۔ اپنے بہت سے مشترکہ دشوار کاموں میں ایسے کم ہی کام ہیں جو ہم متحد ہوکر نہ کرسکیں۔ جبکہ ایسے بہت کم کام ہیں جو ہم منتشر ہوکر کرسکتے ہیں — کیونکہ ہم متصادم ہوکر ایک مضبوط چیلنج کا مقابلہ نہ کرپانے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کی ہمت نہیں کرسکتے۔

آزادی کا درجہ حاصل کرنے والی ان نئی ریاستوں کے تئیں ہم عہد کرتے ہیں کہ ایک قسم کے استعماری تسلط کا خاتمہ صرف اس لئے نہیں ہوا ہے کہ اس کی جگہ کہیں زیادہ مضبوط استبداد لے لے۔ ہمیں ہمیشہ یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ ہماری رائے کی حمایت کریں گے۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یہ امید رکھنی چاہئے کہ وہ اپنی کی آزادی کی پرزور حمایت کریں گے — اور یہ یاد رکھیں کہ، ماضی میں، جنہوں نے بیوقوفی سے شیر کی پیٹھ پر سوار ہوکر اقتدار حاصل کرنا چاہا ہے وہ بالآخر ختم ہوگئے ہیں۔

دنیا کے آدھے حصہ میں جھونپڑوں اور گاؤوں میں رہنے والے ان لوگوں کو، جو اجتماعی افلاس کے بندھن توڑ دینے کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں، ہم اپنی مدد آپ کرنے میں تعاون کرنے کی اپنی ہر ممکن کوشش کا عہد کرتے ہیں، خواہ اس میں کتنا بھی وقت لگے — اس لئے نہیں کہ اشتراکیت پسند ایسا کر رہے ہیں، اور اس لئے بھی نہیں کہ ہم ان کے ووٹ چاہتے ہیں، بلکہ صرف اس لئے کہ یہی صحیح ہے۔ اگر ایک آزاد سوسائٹی ان بہت سے لوگوں کی مدد نہیں کر سکتی جو غریب ہیں تو وہ ان چند لوگوں کی حفاظت نہیں کرسکتی جو امیر ہیں۔

اپنی سرحد کے جنوب میں موجود ہماری تمام پڑوسی جمہوریتوں کے لئے ہم غربت کے سلسلوں کو ختم کرنے میں آزاد لوگوں اور آزاد حکومتوں کی مدد کرنے کے واسطے — ترقی کے ایک نئے اتحاد میں — اپنے اچھے الفاظ کو اچھے اعمال میں بدلنے کا — ایک خصوصی عہد کرتے ہیں۔ لیکن امید کا یہ پرامن انقلاب جارح طاقتوں کا شکار نہیں بن سکتا۔ ہمارے تمام پڑوسیوں کو جان لینا چاہئے کہ ہم تمام امریکا میں کہیں بھی جارحیت یا بغاوت کی مخالفت کرنے میں ان کے ساتھ شامل رہیں گے۔ اور دیگر تمام طاقتوں کو جان لینا چاہئے کہ یہ نصف کرّہ خود اپنے علاقے کا مالک رہنا چاہتا ہے۔

خود مختار ریاستوں کی عالمی اسمبلی، اقوام متحدہ، کے تئیں، جو ایک ایسے وقت میں جب جنگ کے ہتھیار نے امن کے ہتھیار کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، ہم — اسے محض لعن طعن کرنے کا فورم بننے سے روکنے — نئے اور کمزور کے لئے اس کی ڈھال کو مضبوط کرنے — اور اس دائرہ کو بڑھانے کے معاملے میں اپنے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں جس میں اس کا اختیار چل سکے۔

اخیر میں، ان قوموں سے جو ہماری مخالفت کریں گی، ہم کوئی عہد نہیں بلکہ ایک درخواست کرتے ہیں: ہ، اس سے پہلے کہ سائنس کے ذریعہ کھلی چھوڑ دی گئی تباہی کی سیاہ پوش طاقتیں پوری انسانیت کو منصوبہ بند یا حادثاتی خود تباہی کے گھیرے میں لے لیں، دونوں فریق از سر نو امن کی تلاش کا آغاز کریں۔

ہم کمزوری کے ساتھ انہیں ترغیب نہیں دے سکتے۔ چوں کہ ہمارے اسلحے بلاشبہ کافی ہیں اس لئے بلاشبہ ہمیں یقین ہے کہ وہ کبھی نہیں استعمال کئے جائیں گے۔

لیکن قوموں کے دو بڑے اور طاقتور گروپوں میں سے کسی کو بھی ہمارے موجودہ عمل پر اطمینان نہیں ہوسکتا — دونوں فریق جدید اسلحوں کی لاگت کے بوجھ سے دبے ہیں، دونوں مہلک ایٹم کے مسلسل پھیلاؤ سے بجا طور پر خطرہ میں ہیں، لیکن پھر بھی دونوں دہشت کے اس غیر یقینی توازن کو بدلنے کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں جو انسان کے ہاتھ کی آخری جنگ کو روکے ہوئے ہے۔

اس لئے آئيے — دونوں فریق یہ یاد رکھتے ہوئے کہ خوش اخلاقی کمزوری کی علامت نہیں ہے اور خلوص ہمیشہ ثابت رہتا ہے، ہم از سر نو آغاز کریں۔ ہمیں کبھی بھی ڈر کر سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ ہمیں سمجھوتہ کرنے سے کبھی نہیں ڈرنا ہے۔

آئیے دونوں فریق جائزہ لیں کہ کون سی مشکلات ہمیں متحد کرتی ہیں بجائے اس کے کہ ہم ان مشکلات پر حجت بازی کریں جو ہمیں الگ کرتی ہیں۔

آئیے دونوں فریق، پہلی بار، اسلحوں کی جانچ اور کنٹرول کے لئے سنجیدہ اور حتمی تجاویز تیار کریں — اور دیگر قوموں کو تباہ کرنے والی مطلق العنان طاقت کو تمام قوموں کے مطلق کنٹرول میں لائیں۔

آئیے دونوں فریق سائنس کی دہشت کے بجائے اس کی حیرت انگیز صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ آئیے ہم ایک ساتھ ستاروں کا جائزہ لیں، صحراؤں پر غلبہ حاصل کریں، بیماری کو ختم کریں، سمندر کی گہرائیوں کو ناپیں اور فنون اور تجارت کی حوصلہ افزائی کریں۔

آئیے دونوں فریق روئے زمین کے تمام گوشوں میں عیسی کے فرمان — "بھاری بوجھوں کو اتار دو...(اور) مظلوم کو آزاد کر دو" پر توجہ دینے کے لئے متحد ہو جائیں۔"

اور اگر تعاون کا کوئی مورچہ شک و شبہ کے جنگل کو پیچھے دھکیل دیتا ہے تو دونوں فریق ایک نئی جد و جہد، نہ کہ طاقت کے ایک نئے توازن، بلکہ قانون کی ایک ایسی نئی دنیا کی تخلیق کرنے پر متحد ہوجائیں جہاں طاقتور انصاف پرور ہو اور کمزور محفوظ ہو اور امن کی حفاظت کی جائے۔

یہ سارے کام پہلے سو دنوں میں پورے نہیں ہوں گے۔ نہ یہ پہلے ایک ہزار دنوں میں، نہ اس انتظامیہ کی زندگی میں اور شاید نہ ہی اس سیارہ پر ہماری زندگی میں پورے ہوں گے۔ لیکن آئیے ہم آغاز کریں۔

میرے ہم وطن ساتھیو، ہمارے عمل کی حتمی کامیابی یا ناکامی مجھ سے زیادہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ جب سے اس ملک کی بنیاد پڑی ہے امریکیوں کی ہر نسل اپنی قومی وفاداری کی شہادت دینے کے لئے بلائی جاتی رہی ہے۔ ان جواں سال امریکیوں کی قبریں جنہوں نے خدمت کرنے کے لئے اس دعوت پر لبیک کہا پوری دنیا میں ہیں۔

اب وہی بگل ہمیں ایک بار پھر بلا رہا ہے — اسلحہ سے مسلح ہونے کی دعوت کے طور پر نہیں، اگرچہ ہمیں اسلحوں کی ضرورت ہے — لڑائی کرنے کی دعوت کے طور پر نہیں، اگرچہ ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں — بلکہ کم روشنی میں، مسلسل کئی سالوں تک، "امید میں خوشی، مصیبت میں صبر کے ساتھ"، طویل جد و جہد کا بوجھ اٹھانے کی دعوت کے لئے — انسان کے مشترک دشمنوں: استبداد، غربت، بیماری اور جنگ کے خلاف ایک جد و جہد کے لئے۔

کیا ہم ان دشمنوں کے خلاف شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب میں ایک شاندار اور عالمی اتحاد بنا سکتے ہیں جو تمام انسانیت کے لئے ایک زیادہ ثمرآور زندگی کو یقینی بناسکے؟ کیا آپ اس تاریخی جد و جہد میں شامل ہوں گے؟

دنیا کی طویل تاریخ میں، صرف چند نسلوں کو اس کے زیادہ سے زیادہ پر خطر اوقات میں آزادی کا دفاع کرنے کا کردار عطا کیا گیا ہے۔ میں اس ذمہ داری سے منہ نہیں موڑتا — میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہم میں سے کوئی کچھ دوسرے لوگوں یا کسی دوسری نسل کے ساتھ جگہوں کا تبادلہ کرے گا۔ وہ توانائی، یقین، تعلق خاطر جو ہم اس جد و جہد تک لاتے ہیں ہمارے ملک اور ان تمام لوگوں کو منور کرے گی جو اس کی خدمت کرتے ہیں — اور اس آگ کی چمک دمک یقینا پوری دنیا کو روشن کر سکتی ہے۔

اور اسی لئے، میرے ہم وطن امریکی ساتھیو: یہ نہ پوچھو کہ آپ کا ملک آپ کے لئے کیا کرسکتا ہے — بلکہ یہ کہ اپنے ملک کے لئے آپ کیا کرسکتے ہیں۔

دنیا کے میرے ہم وطنو: یہ نہ پوچھو کہ امریکا آپ کے لئے کیا کرے گا، بلکہ یہ کہ انسان کی آزادی کے لئے ہم ایک ساتھ مل کر کیا کرسکتے ہیں۔

اخیر میں، خواہ آپ امریکا کے شہری ہوں یا اس دنیا کے شہری ہوں، یہاں ہم سے طاقت اور قربانی کے انہیں اعلی معیاروں کا مطالبہ کیجئے جن کا مطالبہ ہم آپ سے کرتے ہیں۔ اپنے واحد یقینی انعام کو ایک اچھے ضمیر کے حوالے کرکے، اپنے کاموں کے آخری فیصلہ کو تاریخ کے حوالے کرکے، اس کے رحم و کرم اور اس کی مدد کی دعا کرتے ہوئے لیکن یہ جانتے ہوئے کہ یہاں زمین پر ہمارے اپنے کام ہی یقینا خدا کے کام ہیں، آئیے اس سرزمین کی قیادت کرنے کے لئے آگے بڑھیں جس سے ہم محبت کرتے ہیں۔

Inaugural Address

Click here for full version.

Color footage of John F. Kennedy being sworn-in by Chief Justice Earl Warren followed by President Kennedy's inaugural address.