صدر جان ایف کینیڈی
ایمہرسٹ، میساچوسیٹس
26 اکتوبر 1963

:مایکلوائے صاحب، صدر پلمپٹن، میکلیش صاحب، معزز محمانو، خواتین و حضرات

میں یہاں آپ کے بیچ آکر بہت معزز محسوس کررہا ہوں، اس تقریب میں جو اس کالج کے لیئے بہت بڑا معنی رکھتی ہے اور امریکہ کے فنون اور ترقّی کے لیئے بھی بہت معنی رکھتی ہے۔ یہ کالج امریکہ کا ایک حصّہ ہے یہ امریکہ سے منسلک ہے، جس طرح فروسٹ صاحب منسلک تھے، اور مجھے یہ دعوت قبول کرنے کا اعجاز کچھھ اسی طرح سے ملا ہے جس طرح میکلیش صاحب کو فرینکلین روسویلٹ سے ملا تھا۔ یہ دعوت مجھے میکلوئے صاحب کی طرف سے ملی ہے۔ صدارت کے اختیارات اکثر بندش میں ہوتے ہیں، اس کی محدودیت کو یاد رکھنا ضروری ہے، اسی لیئے جب ڈسآرمامینٹ ایڈوائسری کمیٹی کے چیرمین، جنھون نے ایک لمبے عرسے تک مہنت کی ہے، اور جو کیوبا کے بحران کے دوران، اقوام متحدہ کے بہت مشکل وقت میں، گورنر اسٹیوینسن کے اسسٹینٹ رہے ہیں، امریکہ کے صدر کو دعوت دیتے ہیں تو اس کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے۔ "میں یہاں آکر خوش ہوں

اہمرسٹ میں بہت سے سپاہی گزرے ہیں اور ان میں سے کچھھ یہاں موجود ہیں۔ میکلوئے صاحب، جو ایک عرصے تک عوامی خدمت مین رہے ہیں، جم ریڈ، جو ٹریژری کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں، صدر کول، جو آجکل چلی میں ہمارے سفیر ہیں، رامی صاحب، جو ایٹومک انرجی کمیشن کے کمشنر ہیں، ڈک ریوٹر جو فوڈ فار کے ہیڈ ہیں، یہ سب اور بہت سے دوسرے، جنھوں نے سالہا سال سے اس جیسے کالج سے گریجویشن کرنے کے فوائد کے احسانات کو تسلیم کیا ہے، جس نے ان پر نہ صرف اپنے ذاتی مفادات بلکہ عوامی مفادات کی بھی ذمّہ داری رکھی ہے۔

سالوں پہلے ووڈرو ولسن نے کہا تھا کہ ایک سیاسی پارٹی کا کیا فائدہ ہے جب تک وہ ایک عظیم قومی مقصد کو پورا نہیں کرتی؟ اور ایک پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی کا کیا فائدہ ہے جبتک وہ ایک عظیم قومی مقصد کو پورا نہین کرتے؟ یہ لائبریری جو تعمیر ہو رہی ہے اور پورا کالج صرف اس لیئے نہیں بنا ہے کہ اس کے گرجویشن کرنے والوں کو زندگی کی جدوجہد میں اقتصادی فائدہ حاصل ہو، وہ تو حاصل ہوگا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس عظیم موقع کے بدلے میں، جو اس اسکول اور اس جیسے دوسرے اسکولوں سے گریجویشن کرنے والوں کو سماج نے دیا ہے، اس کے گریجویٹس کو عوامی خدمات کی ذمّہ داری کو تسلیم کرنا چاہیئے۔

اختیار آپ کو مل چکا ہے، لیکن اختیار کے ساتھھ ذمّہ داری بھی ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ، جیسا کہ آپ کے صدر نے کہا، آپ سب کو اس بات سے اطمینان حاصل ہونا چاہیئے کہ اس اسکول کے گریجویٹس نے اسے تسلیم کیا ہے۔ میں امّید کرتا ہوں کہ اس وقت یہاں موجود سارے طالب علم بھی مستقبل میں بھی اسے تسلیم کرینگے۔ حالانکہ ایمہرسٹ ضرورت مند اور ہونہار طالب علموں کو مدد دینے میں پیش پیش رہا ہے پھر بھی سارے کالج اپنے 50 فی صد طالب علم ان امیر ترین لوگوں سے لیتے ہیں جو ملک کی آبادی کے صرف 10 فی صد ہیں اور ریاستی یونیورسٹیز اور عوامی ادارے بھی اپنے طالب علموں کے 25 فیصد اسی گروہ سے لیتا ہے۔ مارچ 1962 میں 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ، جو ہائی اسکول پاس نہیں کر پائے وہ مزدور طبقے کے 46 فی صدی تھے۔ اور ایسے لوگ بے روزگار لوگوں کے 64 فی صد تھے۔ اور1958 میں امریکہ کی سب سے نچلے پانچ خاندانوں میں، کل ذاتی آمدنی کی ساڑھے چار فی صدی تھی اور سب سے اونچے پانچ خاندانوں میں ساڑھے چوالیس فی صد تھی۔ اس ملک میں وراثت میں پائی گئی دولت بھی ہے اور وراثت میں پائی گئی غریبی بھی ہے۔ اور جب تک اس کالج اور اس کی طرح دوسرے کالجوں کے طالب علم، جنھیں زندگی میں ایک اچّھی شروعات ملی ہے، سماج میں ان صلاحیتوں کو، ہمدردی کو، اس سمجھداری اور رحم کو واپس نہیں لوٹاتے، جب تک وہ ان کیفیتوں کو اس عظیم جمبہوریت کو واپس نہیں لوٹاتے، تب تک ظاہر ہے کہ وہ سارے پہلے سے لگائے گئے قیاسات، جن پر ہماری جمبہوریات کی بنیاد ہے، وہ سب مغالطہ انگیز ہو جائینگے۔

وہ مسائل جو اس ملک کے سامنے، ملک میں اور بیرون ملک میں ہیں، وہ سب لڑکھڑا دینے والے ہیں۔ ہمیں اگلے ڈھائی سالوں میں، دس میلیین نوکریاں تلاش کرنے کے لیئے، ہر پڑھے لکھے مرد اور عورت کی خدمات کی ضرورت ہے، اپنے رشتوں پر عملداری کے لیئے، اس ملک میں، جو 150 سالوں تک علاحدگی میں رہا ہے اور اب اچانک آزاد دنیا کا رہنما بن گیا ہے، اسے ان خدمات کی ضرورت ہے، 100 سے زیادہ ممالک سے رشتوں پر عملداری کے لیئے، کامیابی کے ساتھھ ان رشتوں کو نبھانے کے لیئے تاکہ طاقت کا وزن آزادی کی طرف مضبوتی سے قائم رہے، اس بات کو ممکن بنانے کے لیئے کہ سارے امریکی، بلا امتیاز مذہب و ملّت، ایک ساتھھ چین سے رہیں، اس بات کو ممکن بنانے کے لیئے کہ ساری دنیا اختلافات کے باوجود آزاد ہو، یہ سارے کام ہماری بہترین صلاحیتوں کے طالب ہیں۔

اسی لیئے مجھے اس کالج میں آنے کا فخر ہے، جس کے گریجویٹس اس فرض کو پہچان چکے ہیں، میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ضرورت نہ ختم ہونے والی ہے اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آپ عمل کرینگے۔

رابرٹ فروسٹ نے کہا تھا
جنگل میں دو راستے الگ ہو رہے تھے اور میں۔۔۔۔۔
میں نے وہ چنا جس پر کم سفر ہوا تھا
اور اسی سے سارا فرق پڑ گیا۔

میں امّید کرتا ہوں کہ یہ راستہ سب سے کم سفر والا نہیں ہوگا اور امّید کرتا ہوں کہ آنے والے سالوں میں، اس عظیم جمبہوریت کے مفادات سے آپ کی وابستگی، آپکی شروعات سے، آپ کی وراثت کے قابل ہوگی۔

یہ دن جو رابرٹ فروسٹ کی یاد میں وقف کیا گیا ہے، ہمیں غورو فکر کا ایک موقع دیتا ہے، جو سیاست دانوں اور دوسروں کے لیئے ایک بہت اہم چیز ہے، اور شاعروں کے لیئے بھی، کیونکہ رابرٹ فروسٹ ہمارے وقت میں امریکہ کی ایک آہنی شخصیت تھے، ان میں بنیادی طور پر دو خوبیاں تھیں، وہ ایک فنکار تھے اور امریکی تھے۔ ایک قوم اپنی پہچان صرف اچّھے انسان پیدہ کر کے ہی نہیں بناتی بلکہ ان انسانوں کو عزّت دیکر اور انھیں یاد کر کے بھی بناتی ہے۔

امریکہ میں ہمارے جواں مرد، روائتی طور پر، بڑی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہی رہے ہیں۔ لیکن آج یہ کالج اور ملک ایک ایسے انسان کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے جس کی اعانت ہمارے بڑے ہونے میں نہیں بلکہ ہمارے حوصلے میں تھی، ہمارے سیاسی عقیدوں میں نہیں بلکہ ہماری بصیرت میں تھی، ہماری خود کی عزّت میں نہیں بلکہ خود کو سمجھنے میں تھی۔ تو ہم رابرٹ فروسٹ کو خراج عقیدت پیش کر کے دراصل اپنی قومی طاقت کے سب سے بڑے سرچشمے کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ طاقت بہت سی شکلیں اختیار کر سکتی ہے اور سب سے ظاہری شکل ہمیشہ سب سے اہم شکل نہیں ہوتی۔ جو لوگ طاقت پیدہ کرتے ہیں وہ ملک کی عظمت میں ایک ناگزیر اعانت کرتے ہیں لیکن جو لوگ اس طاقت پر سوال اٹھاتے ہیں وہ بھی اتنی ہی ناگزیر اعانت کرتے ہیں، خاص طور سے جبکہ وہ سوال ذاتی مفاد سے خالی ہو، یہ لوگ اس بات کا تعیّن کرتے ہیں کہ ہم طاقت کا استعمال کرتے ہیں یا طاقت ہمارا استعمال کرتی ہے۔

ہماری قومی طاقت اہم ہے لیکن وہ حوصلہ بھی اتنا ہی اہم ہے جو اس طاقت کو خبردار کرتا ہے اور قابو میں رکھتا ہے۔ یہی رابرٹ فروسٹ کا طرّہ امتیاز تھا، اس نے معاشرے کی قسموں اور خدا ترسی کو ایک بےدریغ حس عطا کی تھی، اس میں انسانی سانحہ کی سمجھھ نے اسے خود کو دھوکہ دینے اور آسانی سے غمگین ہونے کے خلاف طاقتور بنایا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ " مجھے رات سے واقفیت ہے" اور کیونکہ وہ آدھی رات کو بھی جانتا تھا اور بھری دوپہر کو بھی جانتا تھا، بڑی مصیبت کو بھی سمجھتا تھا اور انسانی حوصلے کو بھی سمجھتا تھا، اسی لیئے اس نے ہمیں وہ طاقت بخشی جو مایوسی پر فتح پانے کے لیئے ضروری ہے۔ اس کے دل میں انسانی حوصلے پر ایک گہرا بھروسہ تھا اور یہ کوئی اتفاق نہیں کہ رابرٹ فروسٹ نے شاعری کو اقتدار سے جوڑا تھا، اس کی نظر میں شاعری اقتدار کو خود اپنے آپ سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ تھی۔ جب اقتدار انسان کو تکبّر کی طرف لے جاتا ہے تو شاعری اسے اس کی محدودیت یاد دلاتی ہے۔ جب اقتدار انسان کی غور وفکر کو تنگ بنا دیتا ہے تو شاعری اسے اس کے وجود کی وسعت اور گونا گوئی کا اھساس دلاتی ہے۔ جب اقتدار بد اخلاق ہو جاتا ہے تو شاعری اس کی صفائی کرتی ہے۔ تو فن بنیادی انسانی سچ کو ثابت کرتا ہے، جسے ہمارے انصاف کی کسوٹی ہونا چاہیئے۔

ایک فنکار، چاہے وہ سچّائی کے اپنے ذاتی نظریہ سے کتنا ہی وفادار ہو، ایک دخل انداز معاشرے اور افسرانہ حکومت کے خلاف انفرادی دماغ اور سمجھداری کی حمائت کرنے میں اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اسی کیئے ایک عظیم فنکار اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے پاس، جیسا کہ فروسٹ نے کہا تھا، دنیا سے ایک عاشق کی تکرار ہوتی ہے۔ سچّائی کے اپنے تصوّر کے تحفّظ کے کیئے اسے اپنے وقت کی موجوں کے خلاف تیرنا پڑتا ہے۔ یہ کوئی شہرتیافتہ رول نہیں ہے۔ اگر رابرٹ فروسٹ کو اس کی زندگی ہی میں عزّت ملی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کی تلخ حقیقتوں سے چشم پوشی کی، پھر بھی جب ہم پیچھے دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ کس طرح فنکار کی وفاداری نے قومی زندگی کے تانوں بانوں کو طاقت بخشی۔

اگر کبھی ہمارے عظیم فنکار، ہمارے معاشرے کے سب سے بڑے تنقیدنگار ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف کے لیئے ان کا احساس اور فکر، جو ہر سچّے فنکار کو باعمل بنانے کے لیئے ضروری ہے، اسے یہ جتاتی ہے کہ ہمارا ملک اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر رہا ہے۔ اپنے فنکاروں کو انکا صحیح مقام دینے کے علاوہ مجھے اپنے ملک اور تہذیب کے مستقبل میں اور کوئی بات اتنی اہم نظر نہیں آتی۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ فن ہماری تہذیب کی جڑوں کومضبوط بنائے تو معاشرے کو اپنے فنکار کو اپنی بصیرت کے مطابق چلنے کی آزادی دینی ہوگی، جو اسے جہاں چاہے لے جائے۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ فن، پروپیگنڈا کی ایک قسم نہیں ہو سکتا۔ یہ سچ کی ایک قسم ہے۔ اور جیسا کہ میکلیش صاحب نے شاعروں کے بارے میں ایک بار کہا تھا، ہمارے مفادات کے لیئے کوئی چیز اتنی بری نہیں ہوتی جتنا کہ نمائشی طریقوں کے اندر رہنا۔ ایک آزاد معاشرے میں فن ایک ہتھیار نہیں ہے جو حجتی نظریہ رکھنے والوں کی ملکیت ہو۔ فنکار روح کے کاریگر نہیں ہیں۔ دوسری جگہوں پر اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک جمبہوری معاشرے میں یہ ایک مصنّف کا، ایک طرز بنانے والے کا، ایک فنکار کا سب سے بڑا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ سے دیانتدار رہے، اس کے نتائج چاہے جو بھی ہوں۔ سچّائی کے اپنے نظریہ کی خدمت کرکے ایک فنکار اپنے وطن کی سب سے بڑی خدمت کرتا ہے۔ اور وہ ملک جو فن کے اس مشن کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ، رابرٹ فروسٹ کے مطابق، اس آدمی کی تقدیر جیسی تقدیر کو دعوت دیتا ہے جس کے پاس "فخر کے ساتھھ پیچھے دیکھنے کو کچھھ بھی نہیں اور امّید کے ساتھھ آگے دیکھنے کو کچھھ بھی نہیں

میں امریکہ کے لیئے ایک عظیم مستقبل کو دیکھنے کا متمنّی ہوں۔ ایک ایسا مستقبل جس میں ہم اپنی فوجی طاقت کو اپنی اخلاقی برداشت کے اندر رکھیں، اس کی دولت کو اپنی دانشمندی اور اس کے اقتدار کو اپنے مقصد کے اندر رکھیں۔ ایک ایسے امریکہ کو دیکھنے کا متمنّی ہوں جو اپنے حسن اور جمال سے خوف ذدہ نہ ہو جو اپنے حسن اور قدرتی ماحول کی حفاظت کر سکے۔ جو اپنے قومی ماضی کے عظیم اور قدیم گھروں، میدانوں اور پارکوں کو سمبھال کر رکھھ سکے، اور جو اپنے مستقبل کے لیئے وجیح اور مناسب شہر بنا سکے۔

میں ایک ایسا امریکہ دیکھنے کا متمنّی ہوں جو فنون کے کارناموں کا انعام بھی اسی طرح دے جیسے وہ کاروبار اور حکومتی کارناموں پر دیتا ہے۔ میں ایسا امریکہ دیکھنے کا متمنّی ہوں جو اپنے سارے شہریوں کی فنی لیاقتوں کا معیار بتدریج بڑھائے اور تہذیبی مواقع کو وسیع کرے۔ اور میں ایک ایسا امریکہ دیکھنے کا متمنّی ہوں جسکی عزّت ساری دنیا میں ہو، صرف اپنی طاقت کے لیئے نہیں بلکہ اپنی تہذیب کے لیئے بھی۔ اور میں ایک ایسی دنیا دیکھنے کا متمنّی ہوں جو صرف جمبہوریت اور گونا گوئی کے لیئے ہی نہیں بلکہ ذاتی امتیاز کے لیئے بھی محفوظ ہو۔

رابرٹ فروسٹ اکثر انسانی ترقّی کے منصوبوں سے متشکک رہتا تھا، لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ اس امّید کو حقارت کی نظروں سے دیکھتا تھا، جیسا کہ اس نے دوسری جنگ عظیم کے مذبذب دنوں میں لکھا تھا:

دیکھا جائے اگر انسان کی فطرت کو وقت کی
شروعات سے...
یہ تھوڑی سی نظر آئے گی حق میں
انسان کے
ایک فی صدی کے ایک حصّے کے برابر
کم سے کم...
ہماری گرفت اس سیّارے پر بس اتنی ہی
بڑھی ہے۔

فروسٹ صاحب کی زندگی اور کام اور اس کالج کی زندگی اور کام نے اس سیّارے پر ہماری گرفت بڑھائی ہے۔