صدر جان ایف کینیڈی
ہاؤسٹن، ٹیکساس
1962 ستمبر 12

صدر پٹزر، نائب صدر صاحب، گورنر، کانگریس میں  تھومس، سینیٹر وائیلی،اور کانگریس میں  ملر، ویب صاحب، بیل صاحب، سائینس دانو، معزز محمانوں، اور خواتین وحضرات:

     میں آپ کے صدر کی معرفت ایک اعزازی وزٹنگ پروفیسر بنائے جانے کی قدر کرتا ہوں۔ اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری پہلی تقریر بہت چھوٹی ہوگی۔

     میں یہاں آکر بہت مسرور ہوں اور خاص طور پر اس موقع پر یہاں آکر بہت مسرور ہوں۔

     ہم ایک ایسے کالج میں مل رہے ہیں، جو اپنے علم کے لیئے مانا جاتا ہے، ایک ایسے شہر میں، جو ترقّی کے لیئے مانا جاتا ہے، ایک ایسی ریاست میں جو اپنی طاقت کے لیئے مانی جاتی ہے،اور ہم کو ان تینوں ہی کی ضرورت ہے کیونکہ ہم ایک تبدیلی اور چیلینج کے دور میں مل رہے ہیں، ایک امّید اور خوف کے عشرہ میں مل رہے ہیں، ایک علم اور جہالت دونوں کے دور میں مل رہے ہیں، جیسے جیسے ہمارا علم بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے ہماری جہالت سامنے آتی جاتی ہے۔

     اس واضح حقیقت کے باوجود کہ زیادہ تر سائینس دان جنہیں دنیا جانتی ہے، آج زندہ ہیں اور کام کر رہے ہیں، اس واضح حقیقت کے باوجود کہ خود اس ملک کی سائینسی افرادی قوّت ہر 12 سال میں دوہری ہو رہی ہے،ترقّی کی ایک ایسی رفتار سے جو ہماری پوری آبادی سے تین گنا زیادہ ہے، ان ساری چیزوں کے باوجود، نامعلوم، بغیر جواب کی اور نامکمل باتوں کا ایک بڑا حصّہ، ہماری مجموعی معلومات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

     کوئی آدمی پوری طرح نہیں سمجھھ سکتا کہ ہم کتنی دور اور کتنی تیزی سے پہنچ چکے ہیں، لیکن ہم انسان کی 50000 سالہ درج شدہ تاریخ کو، صرف آدھی صدی کے عرصہ میں سمیٹ سکتے ہیں۔ اس معنی میں دیکھا جائے تو ہم پہلے چالیس سالوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں سوائے اس کے کہ ان سالوں کے اواخر میں انسان جانوروں کی کھال سے اپنے آپ کو ڈھانکنا سیکھھ چکا تھا۔ اسی معیار سے انسان تقریباً 10 سال پہلے غاروں سے دوسری قسم کی پناہگاہیں بنانے کے لیئے نکل آیا تھا۔ صرف پانچ سال پہلے انسان نے لکھنا اور پہیّوں والی گاڑی کا استعمال سیکھا۔ عیسائیت کی شروعات دو سال پہلے ہوئی تھی، پرنٹنگ پریس اسی سال آیا، انسانی تاریخ کے اس پچاس سالہ دور میں اسٹیم انجن نے توانائی کا ایک نیا سرچشمہ مہیّا کیا۔

     نیوٹن نے ابھی کشش زمین کے معائنے تلاش کیئے ہیں۔ پچھلے ماہ ہی ہمیں بجلی کی روشنی، ٹیلیفون، کاریں اور ہوائی جہاز میسّر ہوئے ہیں، پچھلے ہی ہفتے ہم نے پینیسلین، ٹیلیوژن اور جوہری طاقت حاصل کی ہے اور اب اگر امریکہ کا خلائی راکٹ زہرہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے تو ہم آج رات کے بارہ بجے تک ستاروں تک پہنچ جائینگے۔

     یہ ایک سانس اکھاڑ دینے والی رفتار ہے اور ایسی رفتار پرانی برائیوں کو دفع کرتے ہوئے صرف نئی برائیوں کو جنم دے سکتی ہے اور نئی جہالت کو اور نئے مسائل کو اور نئے خطرات کو۔ یقیناً کُھلتے ہوئے خلائی مناظر ایک بھاری قیمت اور مہنتوں کو یقینی بناتے ہیں اور نئے انعمات کو بھی۔

     تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ کچھھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم جہاں ہیں وہیں سستانے کے لیئے کچھھ دیر رُکیں۔ لیکن ہاؤسٹن کا یہ شہر، ٹیکساس کی یہ ریاست اور امریکہ کا یہ ملک ان لوگوں نے نہیں تعمیر کیئے ہیں جو رُکے تھے اور آرام کیا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ یہ ملک ان لوگوں نے فتح کیا تھا جو آگے بڑھے تھے اور اسی طرح خلائی علم بھی آگے بڑھےگا۔

     ولیم بریڈفورڈ نے پلائے متھھ بے کالونی کی بنیاد رکھتے ہوئے 1630 میں کہا تھا کہ سارے عظیم اور باعزت اعمال، بڑی مشکلوں کے ساتھھ ہوتے ہیں اور دونوں کو ایک جوابی ہمّت اور جرئت کے ساتھھ عبور کرنا چاہیئے۔

     اگر ہماری ترقّی کی تاریخ کی یہ سمٹی ہوئی شکل ہمیں کچھھ سکھاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان کو علم اور ترقّی کی تلاش سے روکا نہیں جا سکتا، خلا کی کھوج جاری رہے گی اور یہ سارے دوروں کی ایک عظیم، جانباز مہم ہے اور کوئی ایسا ملک جو دوسرے ممالک کا رہنما بننے کا متوقع ہو، خلائی دوڑ میں پیچھے رہنے کی توقع نہیں کر سکتا۔

     جو ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انھوں نے یہ بات یقینی بنائی تھی کہ یہ ملک صنعتی انقلاب کی سب سے پہلی لہروں پر سفر کرے، نئی ایجادات کی پہلی لہروں پر اور ایٹمی طاقت کی پہلی لہروں پر بھی اور یہ پیڑھی یہ نہیں چاہتی کہ آنے والے خلائی دور میں وہ کسی طرح بھی پیچھے رہ جائے، ہم اس کا ایک حصّہ بننا چاہتے ہیں، ہم اس کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ آج ساری دنیا کی نظریں خلا پر، چاند پر، اور ان سے بڑے سیّاروں پر ٹکی ہوئی ہیں، اور ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم ان سب پر کوئی جنگجو فتح کا پرچم نہیں لگنے دینگے بلکہ امن اور آزادی کا پرچم دیکھنا چاہینگے۔ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم خلا کو بڑے پیمانے پر تباہی کرنے والے ہتھیاروں کے بجائے، علم اور سمجھوتے کے آلات سے پر کرینگے۔

     لیکن اس ملک کے عہد تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب ہم اوّل ہوں، اور ہم اوّل ہونے کا عزم رکھتے ہیں۔ مختصراً سائینس اور صنعت میں ہماری رہنمائی، امن اور تحفّظ کی ہماری امّیدیں، دوسروں اور اپنے آپ سے کیئے ہوئے ہمارے وعدے، ان سب کا تقاضہ ہے کہ ہم یہ کوشش کریں، ان اسراروں کو حل کریں، سارے انسانوں کے واسطے حل کریں اور دنیا کے خلائی سفر کے قائد بنیں۔

     ہم نے اس نئے سمندر میں کشتی ڈال دی ہے کیونکہ نئی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، نئے حقوق جیتے جا سکتے ہیں اور انھیں جتنا چاہیئے اور سارے لوگوں کی ترقّی کے لیئے استعمال کرنا چاہیئے۔ کیونکہ خلائی سائنس کا، ایٹمی سائینس اور دوسرے تکنولوجیز کی طرح، خود اپنا ضمیر نہیں ہوتا۔ یہ انسان پر منحصر ہے کہ یہ ایک اچّھی طاقت بنے گی یا بری، اور امریکہ ایک اعلیٰ مقام پر پہنچ کر ہی اس فیصلے میں مدد کر سکتا ہے کہ یہ ایک امن کا سمندر بنے گا یا جنگ کی ایک بھیانک تماشہ گاہ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم خلا کے جنگی غلط استعمال سے غیر محفوظ رہینگے یا ہمیں رہنا چاہیئے، جیسا کہ ہم بحر وبر میں بھی غیر محفوظ نہیں ہیں، لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہم جنگ کے شعلوں کو بھڑکائے بغیر بھی خلا کی کھوج کر سکتے ہیں اور اسکے مالک بن سکتے ہیں، ان غلطیوں کو دوہرائے بغیر بھی، جن کا اضافہ انسان نے اس دنیا پر اپنا حکم چلانے کے لیئے کیا ہے۔

     ابھی تک بیرونی خلا میں کوئی اختلاف، کوئی تعصب، کوئی قومی تکرار نہیں ہے، ان کے جوکھم ہم سب کے لیئے خطرناک ہیں۔ اس کی فتح انسانیت کی ساری اچّھائیوں کی حقدار ہے، اس میں باہمی امداد کا موقع دوبارہ نہیں آئے گا۔ لیکن کچھھ لوگون کا کہنا ہے کہ چاند پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کو اپنی منزل کے طور پر کیوں چنا جائے؟ یہ سوال بلکل ایسا ہے کہ سب سے اونچے پہاڑ پر کیوں چڑھا جائے؟ 35 سال پہلے ایٹلانٹک کے اوپر پرواز کیوں بھری گئی تھی؟ رایئس ٹیکساس کے مقابلے میں کیوں کھیلتا ہے؟

     ہم چاند پر جانا پسند کرتے ہیں، ہم اس عشرے میں چاند پر جانا اور دوسرے کام کرنا پسند کرتے ہیں، اس لیئے نہیں کہ یہ کام آسان ہیں، بلکہ اس لیئے کہ یہ کام مشکل ہیں، اس لیئے کہ یہ کام ہمیں اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بہترین طور پر منتطم کرنے اور انھیں ناپنے میں مددگار ہوگا، کیونکہ یہ ایک ایسا چیلینج ہے جسے ہم قبول کرنے کو تیّار ہیں اور جسے ہم ملتوی کرنے کو تیّار نہیں ہیں اور اسے جیتنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی۔

     انھیں وجوہات کے بنا پر میں پچھلے سال لیئے گئے، خلا میں ہماری کوششوں کی رفتار کو کم سے زیادہ کرنے کی اپنے فیصلے کو، اپنی صدارت کے دور کے سب سے اہم فیصلوں میں سے ایک سمجھتا ہوں۔

     پچھلے 24 گھنٹوں میں ہم نے ان سہولتوں کو پیدہ ہوتے دیکھا ہے جو انسان کی ترقّی تاریخ میں سب سے عظیم اور سب سے زیادہ الجھی ہوئی کھوج کے لیئے دی گئی ہیں۔ ہم نے سیٹرن سی1 بوسٹر راکٹ کے تجربے سے ز مین کو کانپتے اور ہوا کو پھٹتے ہوئے محسوس کیا ہے، اس ایٹلاس سے کئی گنا زیادہ طاقتور، جس کے ذریعے جان گلین کو خلا میں چھوڑا گیا تھا، اتنی توانائی پیدہ کرتے ہوئے جو 10000 کاروں کے ایکسیلریٹرز کو پورا دبانے پر پیدہ ہوتی ہے۔ ہم نے وہ مقام دیکھا ہے جہاں ترقّی یافتہ سیٹرن میزائیل بنانے کے لیئے، پانچ ایف۔1 راکٹ اینجنس کو جوڑا جائے گا، جن میں سے ہر ایک کی طاقت، پورے آٹھھ سیٹرن انجنوں کے برابر ہوگی۔ یہ اس نئی، 48 منزلہ عمارت میں جمع کیئے جائینگے جو کیپ کیناویرل میں تعمیر ہونے والی ہے، جو شہر کے ایک بلاک کے برابر چوڑی ہوگی اور اس میدان سے دوگنی لمبی ہوگی۔

     پچھلے 19 مہینوں میں کم سے کم 45 مصنوعی سیّاروں نے دنیا کے ارد گرد چکّر لگائے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 40 " امریکہ میں بنے ہیں" اور سوویت یونیین کے مصنوعی سیّاروں سے کہیں زیادہ جدید اور دنیا کے لوگوں تک کہیں زیادہ علم پہنچانے والے ہیں۔

     میرینرسپیسکرافٹ، جو اس وقت زہرہ پر جانے کے لیئے راستے میں ہی ہے، خلائی سائینسکی تاریخ کا سب سے الجھا ہوا آلہٰ ہے۔ اس کی درستگی کا موازنہ کیپ کیناویرل سے ایک میزائیل کو داغ کر اس سٹیڈیم پر 40 لاائینس کے بیچ گرانے سے کیا جا سکتا ہے۔

     منتقل ہونے والے مصنوعی سیّارے ہمارے بحری جہازوں کو ایک محفوظ راستے پر چلنے میں مدد کرتے ہیں۔ ٹائیروس مصنوعی سیّاروں نے ہمیں طوفانوں اور تیز ہواؤں کی پہلے سے آگاہی دی ہے۔ اور یہ جنگل کی آگ اور برفانی طوفانوں کے بارے میں بھی ایسا ہی کرینگے۔

     ہم ناکام بھی ہوئے ہیں، لیکن غیر بھی ناکام ہوئے ہیں، لیکن انھوں نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے اور لوگوں کو کم ہی بتایا ہے۔

     یقیناً ہم پیچھے ہیں اور انسانی اڑانوں میں کچھھ دنوں تک پیچھے رہینگے لیکن پیچھے رہ جانے کا ہمارہ ارادہ نہیں ہے، جلد ہی ہم اس کا ازالہ کر لینگے اور آگے بڑھ جائینگے۔

     سائینس اور تعلیم میں ہماری ترقّی کو ہماری کائنات اور ماحولیات کی نئی معلومات نے مالامال کیا ہے، یہ سیکھنے کی نئی تکنیک، نقشہ سازی اور مشاہدے سے ممکن ہوا ہے، صنعت، طب، گھر اور اسکول میں نئے آلات اور کمپیوٹر سے ممکن ہوا ہے۔ رائیس جیسے تکنیکی ادارے ان حصولیات کا فائدہ اٹھائینگے۔

     اور آخیر میں، خلائی کوششوں نے، جو کہ ابھی اپنے اپتدائی دور میں ہیں، کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد اور ہزاروں نئے روزگار پیدہ کیئے ہیں۔ خلا اور متعلقہ صنعتیں نئے لاگتوں اور ماہر افسروں کی مانگ کر رہی ہیں اور اس شہر اور اس ریاست اور اس علاقے کا اس ترقّی میں ایک بہت بڑا حصّہ ہوگا۔ جو کسی زمانے میں مغرب کی سب سے دور کی حد تھی وہ سائینس اور خلا کی سب سے نزدیکی حد بن گئی ہے۔ ہاؤسٹن، آپ کا شہر ہاؤسٹن، انسانی سپیسکرافٹ سینٹر کے ساتھھ، سائینس اور انجینییرنگ کی ایک بہت بڑی جماعت کا قلب بن جائے گا۔ اگلے 5 سالوں میں، نیشنل ایرونوٹکس اینڈ اسپیس سینٹر، اس علاقے میں سائینسدانوں انجینییرز کی تعداد کو دوگنا کرنے کی توقع رکھتا ہے، ہر سال تنخواہوں میں 60 میلیین ڈالرز کے اضافے کی، پلانٹ اور لیبوریٹری کی سہولتوں میں 200 میلیین ڈالرز کی لاگت کی اور اس شہر کے اس مرکز سے ایک بیللیین ڈالرز سے زیادہ نئے خلائی کوششوں کے کانٹریکٹ دینے کی توقع بھی رکھتا ہے۔

     یقیناً یہ ہم سب کے لیئے ایک بہت بڑی رقم کا خرچہ ہے۔ اس سال کا خلائی بجٹ، جنوری 1961 کے بجٹ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے اور پچھلے آٹھھ سالوں کے کُل بجٹ سے زیادہ ہے، یہ بجٹ اس وقت 5400 ڈالرز سالانہ ہے اور ایک چکرا دینے والی رقم ہے لیکن یہ اس رقم سے کم ہے جو ہم سالانہ سگریٹ اور سگار خریدنے میں خرچ کرتے ہیں۔ خلائی اخراجات ابھی اور بڑھینگے 40 سینٹس فی شخص فی ہفتہ سے 50 سینٹس سے بھی زیادہ، جو امریکہ کے ہر مرد عورت اور بچّے کو دینے ہونگے۔ کیونکہ ہم نے اس پروگرام کو اعلیٰ قومی ترجیح دی ہے، حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ یہ کسی قدر بصارت اور یقین کا معاملہ ہے، لیکن ہم نہیں جانتے کہ کونسے فوائد ہمارے منتظر ہیں۔ لیکن میرے ساتھی شہریو، اگر مجھے آپ سے یہ کہنا ہو کہ ہم چاند پر، ہاؤسٹن کے کنٹرول اسٹیشن سے 240000 میل دور ایک ایسا دیوہیکل راکٹ بھیجنے والے ہیں جو 300 فیٹ یعنی اس میدان کی لمبائی جتنا ہے، نئے دھاتوں کے مرکب سے بنا ہے، جن میں سے کچھھ ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئے ہیں، جو ایسی گرمی اور زحمت برداشت کرنے کا اہل ہے جو آج تک مشاہدے میں نہیں آئے، جس میں ایسے آلات فٹ ہیں جو بہترین گھڑی سے بھی زیادہ درست ہیں، ایسے سارے سازوسامان ہیں جو تیز حرکت، رہنمائی، قابو، خبررسانی، کھانے اور جینے کے لیئے ضروری ہیں، جو ایک بنا آزمائے ہوئے مشن کے لیئے، ایک نامعلوم آسمانی جسم پر بھیجا گیا ہے اور جسے باحفاظت واپس زمین ، 25000 میل فی گھنٹے کی رفتار سے اتارا جائےگا، جو سورج کی گرمی سے آدھی حرارت کی گرمی پیدہ کرےگا، تقریباً اتنی ہی گرمی جتنی آج یہاں ہے، اور یہ سب کرنے کے لیئے اور ٹھیک طرح سے کرنے کے لیئے اور سب سے پہیلے، اس عشرے کے ختم ہونے تک کرنے کے لیئے، ہمیں باہمّت ہونا ہوگا۔

     یہ سارے کام میں کر رہا ہوں تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایک منٹ آرام سے بیٹھیں۔ (ہنسی)

     تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کی جو ادائیگی کرنی ہے وہ کر دینی چاہیئے۔ میرے خیال سے ہمیں پیسے برباد نہیں کرنے چاہیئے مگر کام کو پورا ضرور کرنا چاہیئے اور یہ ساٹھھ کے عرشے میں ہو جائے گا۔ یہ اس عرصے میں بھی ہو سکتا ہے جبکہ آپ اس اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں ہونگے۔ یہ، یہاں اس پلیٹفارم پر بیٹھے کچھھ لوگوں کی نوکری کی مدّت ختم ہونے سے پہلے ہو جائےگا۔ لیکن یہ کام ہو جائےگا اور اس عشرے کے خاتمے سے پہلے ہو جائے گا۔

     میں مسرور ہوں کہ یہ یونیورسٹی، انسان کو چاند پر بھیجنے میں، امریکہ کی ایک عظیم قومی کوشش کے تحت، اپنا رول ادا کر رہی ہے۔

     کئی سال پہلے، عظیم انگریز متلاشی، جارج میلری سے، جس کا انتقال ماؤنٹ ایویرسٹ پر ہواتھا، پوچھا گیا کہ وہ کیوں اس پہاڑ پر چڑھنا چاہتا ہے تو اس نے جواب دیا تھا "کیونکہ وہ موجود ہے"

     بس تو خلا بھی موجود ہے اور ہم اس پر چڑھینگے اور چاند اور دوسرے سیّارے بھی موجود ہیں اور علم اور امن کے لیئے امّیدیں بھی موجود ہیں۔ تو ہم خدا سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں، انسانیت کی ایک ایسی مشکل، خطرناک اورعظیم مہم شروع کرتے ہوئے، جس پر آج تک کسی انسان نے قدم پیشی نہیں کی۔

     شکریہ۔

1962-09-12 Rice University

Click here for full version.